کشمیریوں کیلئے حق خودارادیت پالیسی کا محور ہے‘ پاکستان کوئی سمجھوتہ کرے گا نہ ہی کمزوری دکھائے گا : سیکرٹری خارجہ

اسلام آباد (سلطان سکندر) حکومت پاکستان نے آر پار کی کشمیری قیادت کو یقین دلایا ہے کہ کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت خارجہ پالیسی کا محور ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر کوئی کمپرومائز اور کمزوری نہیں دکھائے گا۔ وزارت خارجہ کے سیکرٹری جلیل عباس جیلانی نے کشمیر ہا¶س میں مقبوضہ اور آزاد کشمیر کی قیادت کو بریفنگ دی جس میں دفتر خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری سید ابن عباس اور ڈائریکٹر جنرل مسز رفعت مسعود نے ان کی معاونت کی۔ بریفنگ میں آزاد کشمیر کے صدر سردار محمد یعقوب خان‘ وزیراعظم چودھری عبد المجید‘ سابق صدر میجر جنرل (ر) سردار محمد انور خان‘ محمود احمد ساغر‘ غلام محمد صفی‘ امان اللہ خان‘ سید یوسف نسیم‘ صغیر چغتائی‘ رفیق ڈار‘ مشعل یاسین ملک‘ ڈاکٹر خالد محمود‘ مولانا سعید یوسف اور مولانا امتیاز احمد صدیقی نے شرکت کی۔ سیکرٹری خارجہ نے کشمیری قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں ہے۔ کشمیری قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا‘ پاکستان مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کی شرکت کا حامی ہے‘ پاکستان کی طرف سے اپنے م¶قف میں کمزوری یا تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ پاکستان نے مشکل حالات میں بھی کشمیریوں کی تحریک کی بھرپور حمایت کی ہے‘ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی لائق تحسین ہے یہ جدوجہد تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور نہ صرف انڈیا کے اندر سے بھی اس کی حمایت میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی حمایت کی جا رہی ہے‘ ناروے اور یورپی پارلیمنٹوں میں مسئلہ کشمیر پر بحث خوش آئند ہے‘ پاکستان شروع سے اس بات کی جدوجہد کر رہا ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملے اور وہ آج بھی اس م¶قف پر قائم ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ دونوں اطراف کی کشمیری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی قیادت مسئلہ کشمیر پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہ کرے اور نت نئے فارمولے پیش کرنے سے گریز کیا جائے اور اپنے م¶قف میں کمزوری نہ لائی جائے۔ پاکستان کی نئی منتخب قیادت کو بھی دفتر خارجہ مسئلہ کشمیر پر اسی نوعیت کی بریفنگ دے اور کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے‘ سابق پارلیمنٹ کی طرح نئی پارلیمنٹ سے بھی مسئلہ کشمیر پر قرارداد منظور کرائی جائے اور پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی م¶قف پر قائم رہے۔ بریفنگ میں سینئر وزیر چودھری محمد یاسین‘ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر محمد طاہر کھوکھر‘ وزرا چودھری اکبر ابراہیم‘ فرزانہ یعقوب‘ میر واعظ محمد احمد‘ عبدالمجید ملک‘ چیف سیکرٹری علیم الدین بلو نے بھی شرکت کی۔ سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کشمیری قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان کی کوئی بھی حکومت مسئلہ کشمیر پر دیرینہ م¶قف سے انحراف نہیں کر سکتی۔ مسئلہ کشمیر اور کشمیری عوام کا حق خودارادیت ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز اور محور ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس کوئی فیصلہ قبول نہیں کریں گے۔ بھارت کے ساتھ جامع مذاکراتی عمل میں مسئلہ کشمیر ہی بنیادی نکتہ ہوتا ہے۔ مذاکرات میں ہم کشمیری عوام کے حق خودارادیت ، مقبوضہ کشیر میں سات لاکھ سے زیادہ فوج کی موجودگی، کشمیری عوام پر قابض افواج کے ظلم و تشدد وہاں نافذ کالے قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جراتمندانہ انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستان ان معاملات پر کھل کر دو ٹوک انداز میں بات کرتا ہے۔ سہ فریقی مذاکرات ، مسئلہ کشمیر پر پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد، پارلیمانی کشمیر کمیٹی، بیرون ممالک سفارتوں میں کشمیر ڈیسک کے قیام اور دیگر تجاویز کو میں نے نوٹ کر لیا ہے۔ نئی حکومت کو خارجہ پالیسی کے حوالے سے میں ان تمام نکات کو اپنی بریفنگ کا حصہ بناﺅں گا۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ کشمیری عوام کے ساتھ وابستگی میں کسی صورت کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ بھارت این جی اوز کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کشمیری رہنماﺅں کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہر ایک تجویز کو نوٹ کر لی ہے۔ کشمیر کے حوالے سے الیکٹرانک میڈیا سے مجھے بھی شکایات ہیں۔ میں میڈیا ہا¶سز کو مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے حوالے سے ترغیب دوںگا ۔ انہوں نے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک کی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی حالت زار اور بچوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے خواتین رہنماﺅں کے آگے لانا ہو گا تاکہ وہ عالمی سطح پر خواتین اور بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کو درست طریقے سے اجاگر کر سکیں۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ اس اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے مثبت تجاویز سامنے آئی ہیں۔ پاکستان میں آنے والے نئی حکومت کو ان تجاویز کی روشنی میں خارجہ پالیسی مرتب کرنے میں آسانی ہو گی۔ قبل ازیں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں، او آئی سی، آسیان، سارک، جی ایٹ، غیر وابستہ ممالک کی تنظیم شنگھائی تعاون کانفرنس اور دیگر اداروں میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے حوالے سے دفتر خارجہ کی کوششوں اور سفارتکاروں کی جدوجہد سے کشمیری قیادت کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی حکومت مسئلہ کشمیر کو جرا¿تمندانہ انداز میں اجاگر کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پوری پارلیمنٹ میں افضل گورو شہید کی پھانسی کی مذمتی قرارداد ، نارویجن پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث اور دیگر فورمز پر کشمیریوں کے حق میں آواز بلند ہونا اہم کامیابی ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اجلاس کے اختتام پر کشمیری قیادت کو تفصیلی بریفنگ دینے پر سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی، ایڈیشنل سیکرٹری خارجہ سید ابن عباس، ڈائریکٹر جنرل فارن آفس مسز رفعت مسعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی سفیر اور دفتر خارجہ کے حکام مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شاندار کردار ادا کر رہے ہیں۔ او آئی سی سربراہ کانفرنسوں کا میں عینی شاہد ہوں کہ فارن آفس کے حکام اور ہمارے سفارتکار مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وہاں دن رات کام کرتے ہیں۔ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ او آئی سی کشمیر رابطہ گروپ میں توسیع ہو چکی ہے۔ سابق حکومت اور وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے مسئلہ کشمیر پر جرا¿تمندانہ م¶قف اختیار کیا۔ گذشتہ سال یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وہاں پاکستانی سفیر اور دفتر خارجہ کے حکام نے صدر کے خطاب میں مسلہ کشمیر کو بنیادی حیثیت دلائی جس کی وجہ سے بھارتی وزیراعظم کو چیخنا پڑا۔ صدر آزاد کشمیر سردار محمد یعقوب خان نے کشمیر لبریشن سیل کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے متعلق لٹریچر بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں اور دیگر عالمی اداروں تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مسئلہ کشمیر پر بہت کام ہو رہا ہے۔ ہمارے سفارتکاروں اور بیرون ملک آباد کشمیریوں کی جدوجہد اور کوششوں کے نتیجے میں یورپی پارلیمنٹ، برطانوی پارلیمنٹ نارویجن پارلیمنٹ سمیت عالمی اداروں میں مسئلہ کشمیر گونج رہا ہے۔ اس حوالے سے یورپ میں کشمیری رہنماﺅں، بیرسٹر مجید ترنبو، بیرسٹر علی شاہ نواز، پروفیسر نذیر شال، غلام نبی فائی اور دیگر کا کردار بڑا اہم ہے ۔ جس پر یہ سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ مسئلہ کشمیر پر آزاد کشمیر کی تمام جماعتیں متحد اور متفق ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتوں میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم چودھری عبدالمجید کا کردار بھی بڑا اہم ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہماری حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو کچھ کر رہی ہے آزاد کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں اور قائدین اس کے گواہ ہیں۔ ہم ہر سطح پر اپنا م¶قف جرا¿تمندی سے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف تجربہ کار اور جہاندیدہ شخصیت سیاسی رہنما ہیں پاکستان کے عوام نے ان کو جو مینڈیٹ دیا ہے ہم اسے تسلیم کرتے اور احترام کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی جلد بازی ہونی چاہئے۔ وزیراعظم چودھری عبدالمجید نے کہا کہ کشمیریوں پر مکمل اعتماد کیا جائے۔ ہم کسی بھی پاکستانی سے زیادہ پاکستانی ہیں ہم نے اس مملکت خداداد کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی ہے۔ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے سفارتکاروں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں۔ پاکستان کا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرے، م¶قف ایک اپنانا چاہئے۔ حالات اور وقت کی نزاکتوں کے پیش نظر حکمت عملی تبدیل ہو سکتی ہے ۔ لیکن یورپ اور برطانیہ میں مقیم کشمیری برداری مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہی ہے، یورپی پارلیمنٹ اور دیگر اداروں میں مسئلہ کشمیر انہی کی کوششوں سے گونج رہا ہے۔ افضل گورو کی شہادت اور جموں جیل میں پاکستانی شہری کی ہلاکت کا معاملہ اجاگر کیا جائے۔ بریفنگ کا مقبوضہ کشمیر میں انتہائی مثبت پیغام جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 84 ہزار مربع میل ریاست جموں و کشمیر ناقابل تقسیم ہے حق خودارادیت کشمیریوں کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے ۔ اس حق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ حق خودارادیت کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے فوری حل کے اقدامات کریں۔ اس خطے میں امن کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زردای کی کامیاب خارجہ پالیسی سے پاکستان میں جمہوری استحکام قائم ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے سفارتخانے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے م¶ثر رول ادا کر رہے ہیں۔ خطے کے ڈیڑھ کروڑ انسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لئے عالمی برداری بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ کرے۔ آزاد کشمیر کی حکومت عام مقبوضہ کشمیر کے عوام نشانہ بشانہ کشمیر ایشو ون پوائنٹ ایجنڈ ہے۔ آر پار کی قیادت اس پر متحد و منظم ہے۔ تحریک آزادی میں سات لاکھ شہداءکا خون رائیگاں نہیں جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی حکومت اولین ترجیح ہے۔ آر پار کی کشمیری قیادت کی مشاورت اور مستقبل کے لئے جامع حکمت عملی سے کشمیر ایشوز آر پار کی قیادت کا ون پوائنٹ ایجنڈا بن چکا ہے۔ کشمیر عوام گذشتہ 65 برسوں سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں، منزل کے حصول تک کشمیری جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ پاکستان اہل کشمیر کی منزل ہے اہل کشمیر نے قیام پاکستان سے قبل ہی پاکستان کو اپنی منزل قرار دیا اور اس منزل کے حصول کے لیے اب تک سات لاکھ کشمیریوں نے لہو بہا کر ثابت کیا کہ پاکستان اور کشمیر لاز م و ملزوم ہیں۔