برطانیہ :لیبر پارٹی بحران کی زد میں 3 رہنما مستعفی شیڈووزیربرطرف

مانچسٹر +لندن( چودھری عارف پندھیر+نیٹ نیوز +اے ایف پی +رائٹر) برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد 26لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔ برطانوی ویب سائٹ کے مطابق آن لائن پٹیشن پر دستخط کرنے والوں میں زیادہ تر افراد کا تعلق لندن اور ان علاقوں سے ہے جو پوری یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں تھے۔ دوسری جانب یورپی رہنمائوں نے نکولا انسٹروجن کو صاف جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکلے گا تو سکاٹ لینڈ پر بھی برسلز کا دروازہ بند ہو جائیگا۔ دوسری جانب یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کی لیبر پارٹی میں ایک طرح کا سیاسی بحران آ رہا ہے جس کے نتیجے میں شیڈو کابینہ کے ایک وزیر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ حزب اختلاف لیبر پارٹی کے سر براہ جرمی کوربن نے اپنے خارجہ امور کے ترجمان ہیلری بن کو برطرف کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق ہلیری بن شیڈو کابینہ کے اپنے ساتھی ارکان کو اس بات کے لئے رضا مند کر رہے تھے کہ اگر مسٹر کوربن عدم اعتماد کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہیں تو وہ سب مستعفی ہو جائیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں پارٹی کی جانب سے چلائی جانے والی مہم میں کوربن نے ڈھیلے ڈھالے رویے سے تعاون کیا اور زیادہ تعداد میں اپنے ووٹروں کو یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لئے لانے میں پارٹی ناکام رہی۔ شیڈو چانسلر جان میک ڈانل نے کہا ہے کہ کاربن نے ریفرنڈم کی مہم کے دوران، خود کو دبائے رکھا۔ کوربن نے اعتماد کے ووٹ کو نظر انداز کیا تو شیڈو کابینہ کی اچھی خاصی تعداد مستعفی ہو سکتی ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد لیبر پارٹی کے 3 رہنما مستعفی ہو گئے ہیں۔ لیبر پارٹی کے پالیسی چیف چارلس میانکونر نے استعفیٰ دے دیا ہے برطانیہ کی آدھی شیڈو کابینہ مستعفی ہونے کا امکان ہے۔ برطانیہ کی لیبر پارٹی میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے برطانیہ سے تعلق رکھنے والے یورپی یونین کے مالیاتی کمشنر جوناتھ ہل نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حوالے سے کرائے گئے ریفرنڈم کے نتیجے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جوناتھن ہِل کا کہنا تھا کہ اْن کا ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اب ان کا یورپی یونین کے کسی منصب پر فائز رہنا جائز نہیں۔ جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ اس بلاک میں سے برطانیہ کے اخراج کے بعد اس کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی طور پر نامناسب رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر ممالک کو یورپی یونین چھوڑنے سے باز رکھنا بات چیت میں ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔ چین نے کہا ہے کہ ریفرنڈم کے اثرات آئندہ پانچ سال میں سامنے آئیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی معیشت پر اثرات ڈالے گا۔ سکاٹش نیشنل پارٹی کی رہنما نکولا اسٹرجن نے ڈرامائی طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ سکاٹ لینڈ یورپی یونین کا حصہ رہے اور اس کے لیے جلد مذاکرات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب ڈیوڈ کیمرون کو ریفرنڈم میں نیچا دکھانے والے بورس جانسن کو نیا وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لیے ٹوری پارٹی متحرک ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران سکاٹ لینڈ کی یورپی یونین رکنیت کے لیے دوبارہ ریفرنڈم کرایا جائے یورپی رہنما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکلے گا تو سکاٹ لینڈ پر بھی برسلز کا دروازہ بند ہوگا۔ ریفرنڈم کے نتائج کے بعد یورپی یونین نے علیحدگی کے لئے خطوط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج کے لئے باقاعدہ خط لکھنا ہو گا اور اعلان کرنا ہو گا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ برطانیہ آرٹیکل 50 کے استعمال کرتے ہوئے باضابطہ اعلان، خط یا پھر بیان کے ذریعے یونین سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے اور معاہدے کے تحت علیحدگی کے اعلان کے بعد دوسال کے اندر اندر علیحدگی کا عمل مکمل ہو گا۔ یورپی یونین نے برطانیہ کے اخراج کے لئے باقاعدہ خطوط واضح کئے ہیں جس کے تحت برطانیہ یونین سے علیحدگی کے لئے باضابطہ بات چیت شروع کر سکتا ہے۔ برطانیہ کے اپوزیشن لیبر لیڈر جرمی کوربن کو بغاوت کا سامنا ہے۔ یورپی ارکان پارلیمنٹ نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین سے اخراج کا عمل تیز کرے۔ جرمنی کے ارکان کا کہنا کہ برطانیہ کو اس فیصلے کے اثرات پر نظرثانی کا موقع دیا جانا چاہئے۔ ایک جرمن رکن پارلمینٹ کا کہنا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی یورپی یونین میں شمولیت کا خیرمقدم کرینگے۔ یورپی کمشنر نے کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے نکلنے کا جلد اعلان کرنا چاہئے۔ برسلز میں ایک سینئر بلاک افسر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بریگزٹ آرٹیکل 50میکانزم استعمال نہیں کرینگے۔ اس کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ کیمرون اس حوالے سے ریفرنڈم کے نتائج اور برطانیہ کی صورتحال سے یورپی رہنمائوں کو آگاہ کرینگے۔ فرانسیسی صدر اولاند کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے نکلنے کے بعد فرانس اور جرمنی کو آگے بڑھنا چاہئے۔ چیکو سلواکیہ نے کہا ہے کہ برطانیہ کو علیحدگی اختیار کرنے سے روکنے میں ناکامی پر یورپی کمشن کے سربراہ جین کلاڈ فیکر کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ ہیلری کلنٹن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ٹرمپ کا بزنس بڑھ سکتا ہے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس صورتحال کے حوالے سے بحث میں حصہ لینے برسلز جا رہے ہیں، کیری نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کو مل کر کام کرنا چاہئے۔