میں یہودی ہوں‘ چاہتی ہوں اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے: امریکی سماجی کارکن

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) اسرائیلی شہر تل ابیب میں فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فورسز کے مظالم کے چشم دید گواہ کے طورپر وقت گزارنے والی امریکی یہودی خاتون نے ریاست نیویارک کے گورنر کی جانب سے اسرائیل میں سرمایہ کاری سے انکار کرنے والے اداروں کو سزا دینے کے ایگزیکٹوآرڈر کو مسترد کر دیا ہے۔ اتوار کے روز ’’دا واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے الیکٹرانک ایڈیشن میں شائع اپنے مضمون میں ریبیکا ولکومرسن نے لکھا کہ انہوں نے فلسطین کی حمایت میں بائیکاٹ‘ عدم سرمایہ کاری اور پابندیوں کی تحریک میں شمولیت 2009ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت میں 1400 فلسطینیوں کے مارے جانے کے بعد اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا میرے خیال میں اسرائیل بیرونی دبائو کے بغیر اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔ اسرائیل کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی سے روکنا ہوگا۔ بائیکاٹ‘ ڈیویسٹمنٹ اور سینکشنز (BDS) میں ریاست کو فعال کرنے کا مؤثر طریقہ ہے۔ درجنوں گرجا گھروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی بستیوں سے نفع کمانے والی کمپنیوں کی مذمت کر دی ہے۔ ولکومرسن کے مطابق نیویارک سمیت امریکہ کی 22 ریاستوں نے پی ڈی ایس کے خلاف قانون سازی متعارف کروا دی یا منظور کر لی۔ نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے اپنے ایگزیکٹوآرڈر کے ذریعے سرمایہ کاری کیلئے اسرائیل کو منتخب کرنے والی کمپنیوں کی بلیک لسٹ تیار کر لی ہے۔ انہوں نے کہا عالمی قوانین اور ان حقوق کی خلاف ورزی پر اسرائیل سے مواخذہ کرنے کیلئے اس کا بائیکاٹ کرنا امتیازی سلوک نہیں۔ انہوں نے کہا میں یہودی ہوں اور میں چاہتی ہوں کہ لوگ اسرائیل کا بائیکاٹ کریں۔