اپوزیشن کوٹی او آر کمیٹی میں لانے کی کوشش کی جائیگی حکمران جماعت کا فیصلہ

اسلام آباد (ابرار سعید/ دی نیشن رپورٹ) پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے اپوزیشن کے ٹی او آر پر سخت موقف کے باعث ملکی ڈیڈلاک کے بعد حکمران مسلم لیگ (ن) نے اس معاملے پر اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کے عمل میں لانے کیلئے کوششوں کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے دی نیشن کو بتایا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے پارٹی کے ایسے سینئر رہنمائوں کو ٹاسک دیا ہے کہ جن کی اپوزیشن جماعتوں میں بھی مقبولیت پائی جاتی ہے کہ وہ مین سٹریم جماعتوں سے رابطہ کرکے انہیں پارلیمانی کمیٹی میں دوبارہ شمولیت کیلئے قائل کریں تا کہ اس حوالے سے کوئی مذاکراتی حل نکل آئے۔ حکمران جماعت ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور انکے خاندان کیخلاف پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے الیکشن کمشن میں دائر نااہلی کے ریفرنسز سے اعلیٰ سطح پر بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور ایک بار پارٹی میں موجود ’’ فاختائوں‘‘ کو اپوزیشن کو منانے اور ان سے رابطہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کا خیال ہے کہ حکومت کے ٹی او آر پر سخت موقف سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کے مطابق حکومت کا یہ اقدام وقت محض وقت ضائع کرنے کی جانب قدم ہے۔ اپوزیشن جماعتیں صرف اسی صورت پارلیمانی کمیٹی میں آئینگی جب حکومت اس حوالے سے کوئی قابل قبول ٹھوس اقدامات کریگی اور انکے کچھ بنیادی مطالبات تسلیم کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پارٹی کے سخت گیر عناصر کو اپوزیشن پارٹیوں کو ایک حد سے زیادہ ہدف تنقید بنانے سے روکدیا ہے، اس امید پر پیپلز پارٹی کے بارے میں نرم رویہ اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ شاید آصف علی زرداری مفاہمت کی سیاست کے تحت نرم رویہ اختیار کریں گے۔ تاہم پارٹی کے دوسرے ذرائع نے کسی قسم کی بے چینی کی تردید کی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو مزید کوئی چھوٹ دینے کے موڈ میں نہیں، اپوزیشن ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ وہ حکومت کو مزید رعایت دینے کو تیار نہیں۔