حکومت طالبان براہ راست مذاکرات میں آئی ایس آئی کا سینئر رکن شامل ہو گا

لاہور (جواد آر اعوان/ نیشن رپورٹ) تحریک طالبان اور حکومت کے براہ راست مذاکرات میں آئی ایس آئی کا سینئر رکن بھی شامل ہو گا اور مذاکراتی کمیٹی کو طالبان سے قیدیوں کے حوالے سے بات کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کا اصرار تھا کہ مذاکرات میں آئی ایس آئی کا براہ راست شامل ہونا ضروری ہے اور یہ دیرپا امن معاہدے کے لئے ضروری ہے اور طالبان نے اپنی مقررہ کمیٹی کے ذریعے حکومت کو اپنی تجویز سے آگاہ کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بھی اس حوالے سے تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پہلی کمیٹی کے رکن میجر (ر) محمد عامر بھی براہ راست مذاکرات میں شامل ہونگے کیونکہ ان کے کئی طالبان سے رابطے ہیں اور آئی ایس آئی کے حوالے سے بھی وہ تجربہ رکھتے ہیں۔ ذرائع نے سیز فائر کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے طویل سیزفائر بندی پر زور دیا ہے جبکہ طالبان اس کو اپنے تشدد میں ملوث نہ ہونے والے قیدیوں کی رہائی سے مشروط کر رہے ہیں اور وہ اس سے مذاکرات مخالف گروپوں کی حمایت چاہتے ہیں۔ حکومتی ٹیم کے رکن نے بتایا کہ طالبان کے اہم جنگجوئوں کی رہائی کے حوالے سے بھی مذاکرات میں بات ہونے کا امکان ہے اسی طرح فوج کی پوزیشن میں تبدیلی بھی زیر غور آ سکتی ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا ابتدائی رائونڈ اعتماد سازی کے لئے ہو گا اور قبائلی علاقے میں پیس زون پر بات ہو گی جو دونوں فریقین کے لئے قابل قبول ہو۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے کی رہائی کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ طالبان کے زیر اثر گروپوں کے پاس نہیں تاہم طالبان ان کی بازیابی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔