مقبوضہ کشمیر کے نواحی علاقے بیروہ میں اجتماعی قبروں کی موجودگی کا انکشاف

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے فورم وائس آف وکٹمز نے ضلع بڈگام کے قصبے بیروہ میں بیسیوں اجتماعی گمنام قبروں میں ڈیرھ سو افراد کی لاشوں کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ ایگزیکٹو دائریکٹر عبدالقدیر ڈار اور کوآرڈنیٹر عبدالرﺅف خان کی قیادت میں فورم کی ایک تحقیقاتی ٹیم نے بیروہ کا دورہ کر کے مقامی افراد سے اجتماعی قبروں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ فورم کی طرف سے مقامی لوگوں کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بیروہ بازار کے عقب میں تقریباً 23برس قبل وسیع اراضی پر ایک قبرستان قائم کیا گیاجس میں مقامی لوگوں نے بھارتی فوجیوں کی ہدایت پردرجنوں نوجوانوں کی لاشوں کو دفن کیا۔مقامی افراد نے وائس آف وکٹمز کو بتایا کہ انہوں نے 6سر کٹی،20جھلسی ہوئی اور بے شمار مسخ شدہ لاشیں دفنا دیں۔ لوگوں کے مطابق انہوں نے نامعلوم افرادکی نعشوں کودفنانے کا کام 1991کے اوائل میں شروع کیا اور ابتک وہ یہاں 150کے قریب لاشوں کو دفن کر چکے ہیں۔ عبدالقدیر ڈار اور عبدالرﺅف خان کے مطابق بیروہ کے لوگوں نے انھیں بتایا کہ ایک مرتبہ فوجی نامعلوم افراد کی ایسی 6 نعشیں لیکر آئے جن کے سرقلم کئے ہوئے تھے جبکہ ایک بار 16نامعلوم افرادکی نعشوں کو ایک ہی قبر میں دفنانے کوکہا گیا۔ مقامی افراد نے مزید کہا کہ1991میں ایک قبر کو کھولا گیا تو اس میں سرینگر کے علاقے ہیرون سے تعلق رکھنے والے ایک بے گناہ نوجوان کی لاش پائی گئی۔