لڑائی، سیلاب: پاکستان میں بھوک، افلاس ایمرجنسی حد تک پہنچ گیا، اقوام متحدہ

پشاور (رائٹر) اقوام متحدہ کے فوڈ ایڈ پروگرام کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند سال سے جاری لڑائی، سیلابوں کے باعث بھوک اور افلاس ایمرجنسی کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ اپنے بیان میں یو این ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا کہ پاکستان میں خوراک کے حوالے سے خطرناک صورتحال کے باوجود عالمی خیراتی اداروں کی ساری توجہ شام کی جانب ہے جب کہ پاکستان میں گزشتہ تین سال سے لگاتار آنے والے سیلابوں کی وجہ سے لاکھوں لوگ عارضی طور پر اپنے گھروں کو خیرباد کہہ چکے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ واپس گھروں کو تو آ گئے تاہم انہیں اب تک مطلوبہ خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کے 15 فیصد بچے خوراک کی انتہائی قلت کا شکار ہیں جب کہ 40 فیصد کی مناسب افزائش نہیں ہو رہی۔ یقینی طور پر ایک ہنگامی صورتحال ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ارتھان کوزن نے رائٹرز کو بتایا کہ ”خطرے کی گھنٹی بجانے کی ضرورت ہے“ انہوں نے اپنے سوات کے دورے کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر ایک خاتون نے اپنے دو ماہ کے بچے، جس کا وزن انتہائی کم تھا، کو اٹھاتے ہوئے اس کے لئے خوراک نہ ہونے کی دہائی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال افغانستان سے امریکی انخلا کے تناظر میں پاکستانی سرحدوں کے مخدوش حالات کی وجہ سے بھی عالمی ڈونرز ان علاقوں کا رخ کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔