سندھ کابینہ اجلاس، صوبے میں امن وامان پر اے پی سی بلانے کا فیصلہ

کراچی (این این آئی) وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی زیرصدارت اتوار کو وزیراعلیٰ ہاﺅس میں ہونے والے سندھ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے مشاورت کی جائیگی اور امن وامان کی صورتحال پر مربوط پالیسی مرتب کرنے کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جائیگا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی اور ان کے بیٹے وقاص کے قتل کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم بھی تشکیل دی جائیگی۔ اس کے علاوہ سندھ کی تمام جیلوں میں سیکورٹی کو مزید ہائی الرٹ کیا جائیگا اور تمام جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور موبائل جیمرز فوری طور پر نصب کئے جائیں گے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کے داخلی وخارجی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مربوط کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف مزید ٹارگیٹڈ آپریشن کا فیصلہ کرتے ہوئے پولیس ورینجرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے اور کراچی میں ڈبل سواری پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی میں قیام امن کے لئے ہر ممکن اقدامات بروئے کار لائے گی اور دہشت گردوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں سوات طرز کا آپریشن نہیں کیا جاسکتا، کراچی کے حالات 25 سال سے خراب ہیں، مختلف پارٹیاں کراچی میں قیام امن کے لئے ہم پر تنقید تو کریں لیکن کراچی میں قیام امن کےلئے تجاویز بھی دیں، وفاقی وزیر داخلہ بتائیں کہ جب سندھ میں ان کی حکومت موجودتھی اور حالات ٹھیک تھے تو کراچی میں آپریشن کیوں کیا گیا، کراچی میں قیام امن کے لئے سندھ حکومت بھرپور اقدامات کررہی ہے،سندھ کی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم قیام امن میں سنجیدہ نہیں ہیں، کراچی میں جتنے دہشت گرد ہمارے دور حکومت میں پکڑے گئے، اتنے دہشت گرد کبھی کراچی میں گرفتار نہیں ہوئے۔