اپوزیشن ارکان کی آواز زیادہ ہو گئی، سپیکرنے دوبارہ رائے لے لی

اسلام آباد (خبرنگار) وزےر خزانہ اسحاق ڈارنے اپوزےشن کے اعتراض پر اےوان کو بتاےا حکومت بجٹ کے فوراً بعد ملک مےں مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے مجسٹرےسی نظام کو باقاعدہ شروع کرے گی،ےہ اےک اےسا نظام ہے جس سے ذخےرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی کرنے والوںکے خلاف موثر کاروائی کی جاسکے گی۔حکومت کو اس وقت شدےد خفت کا سامنا کرنا پڑا جب فنانس ڈوےژن کی کٹوتی کی اےک قرارداد پر اپوزےشن ارکان نے سپےکر کی توجہ حکومتی ارکان کی کم تعداد کی طرف دلائی اور کہا اےوان مےں حکومتی ارکان کی تعداد کم ہے گنتی کرائی جائے،جس پر سپےکر نے اےک مرتبہ پھر قرارداد پڑھ کر سنائی اور اےوان سے دوبارہ رائے لی اسی دوران لابی مےں بےٹھے ہوئے حکومتی ارکان اےوان مےں آ گئے،گزشتہ روز قومی اسمبلی مےںفنانس ڈوےژن کی اےک قرارداد پر اپوزےشن ارکان کی آواز حکومتی ارکان سے زےادہ ہوگئی تو اپوزےشن نے اےوان مےں گنتی کا مطالبہ کردےا جس پرحکومتی کےمپ کے وہےپ شےخ آفتاب کی دوڑےں لگ گئیں وہ ارکان کو ڈھونڈ کر اےوان مےں لانے مےں لگ گئے،اس پر شاہ محمود قرےشی نے سپےکر سے مطالبہ کےا اپوزےشن کی آواز بلند تھی اس لئے گنتی کرائی جائے،اےم کےو اےم،پےپلز پارٹی اور عوامی تحرےک کے شےخ رشےد احمد نے بھی شاہ محمود قرےشی کے مطالبے کی حمایت کی۔وزےرقانون زاہد حامد نے کہا آئےن کے مطابق سپےکر 2مرتبہ اےوان سے رائے مانگ سکتے ہےں۔واضح رہے چند حکومتی ارکان اےوان سے باہر لابی مےں اور چند اپوزےشن کی نشتوں مےں بےٹھ کر گپ شپ مےں مصروف تھے۔