وزیراعظم نے آئی بی میں بھرتیوں پر پابندی اٹھالی، جدید آلات خریدنے کی منظوری

اسلام آباد (اے پی اے+آئی این پی) وزیراعظم میاں نواز شریف نے ملک کی موجودہ سکیور ٹی کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر انٹیلی جنس بیورو میں بھرتیوں پر پاپندی اٹھالی ہے۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے وزیر داخلہ چودھری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کا دورہ کیا جہاں انہیں اندورنی اور بیرونی سلامتی کے امور اوردہشت گردی کیخلاف کارروائیوں کے بارے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ادارے کی صلاحیت بڑھانے کیلئے مختلف تجاویز اور سفارشات منظور کرلیں۔ وزیراعظم نے انٹیلی جنس ادارے کی موثر کارکردگی کیلئے نئے اور جدید آلات خریدنے کی بھی منظوری دی۔آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ ملکی سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا‘ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کےلئے قانون نافذ کرنیوالے ادارے فعال کردار دا کریں‘ انٹیلی جنس اداروں کا دہشت گردی کے خاتمہ میں انتہائی اہم کردار ہے‘ حکومت تمام وسائل فراہم کرے گی‘ دہشتگرد ملک و قوم کے دشمن ہیں‘ قیام امن کے بغیر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیا جاسکتا‘ پولیس سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی تعداد کار بڑھاتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات فراہم کئے جائیں گے‘ آئی بی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کیلئے ضروری بھرتیاں کرنے کیلئے عائد پابندی ختم کی جائے گی۔ ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کی طرف سے وزیراعظم کو ادارے کے مختلف شعبوں کا دورہ کرایا گیا اور ان کی ورکنگ پر بریفنگ دی گئی۔ آئی بی کی طرف سے وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان کو قومی سلامتی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر ڈی جی انٹیلی جنس بیورو نے ادارے کی ضروریات سے بھی وزیر اعظم کو آگاہ کیا جس پر وزیر اعظم نے آئی بی میں اہم اور فوری نوعیت کی بھرتیوں کیلئے عائد پابندی کو فوری طور پر ہٹانے کے احکامات جاری کئے۔ انٹیلی جنس بیور وکو درکار فنڈز سمیت جدید آلات کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہ آنے دی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں‘ ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ انٹیلی جنس بیور وکے نیٹ ورک کو توسیع دیتے ہوئے اسے دنیا کی بہترین ایجنسی بنایا جائے۔ پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کےلئے تمام انٹیلی جنس ادارے باہمی تعاون اور رابطوں کو مزید بہتر بنائیں تاکہ بروقت کارروائی کر کے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔