نوازشریف کے خطاب کو اعلان جنگ تصور کرتے ہیں‘ قیادت تمام چیزوں کا جائزہ لے گی: تحریک طالبان

پشاور/ اسلام آباد (آئی اےن پی) تحریک طالبان پاکستان نے یو ٹرن لیتے ہوئے حکومت کی طرف سے حالیہ اعلانات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب حکومت سے مذاکرات کا دارومدار حکومتی رویہ پر منحصر ہے۔ منور حسن اور مولانا فضل الرحمن پر بھی اب اعتماد نہیں یہ دونوں حکومت کا حصہ بن چکے ہیں‘ اب انکے ذریعے کوئی بات نہیں ہوگی، نواز شریف کی قوم سے تقریر کو ہم طالبان کے خلاف اعلان جنگ تصور کرتے ہیں۔ نامعلوم مقام سے میڈیا کیلئے جاری بیان میں تحریک طالبان کے تر جمان شاہد اﷲ شاہد نے کہا کہ نواز شریف نے چند روز قبل قوم سے خطاب کیا اور کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں جو کچھ کہا گیا اس کے مطابق وہ ایک سانس میں مذاکرات اور اسی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی بات کرتے ہیں‘ طالبان ترجمان نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ نواز شریف کن لوگوں سے مذاکرات کرنے کے حامی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ایک طرف جنگ دوسری جانب امن کا اعلان کر کے نواز شریف نے زرداری اور اسفند ےیا ر ولی کا راستہ منتخب کر کے اپنے پا ﺅں پر خود کلہاڑی ماری ہے ۔ ٹی ٹی پی کے ترجمان نے گزشتہ روز کر اچی میں فوجی ٹرک کو نشانہ بنائے جانے کی ایک بار پھر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ حکومتی غیر اعلا نیہ جنگ کا جواب ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہم نے بھی مسلم لیگ (ن) کے خلاف میڈیا سمیت کئی محاذوں پر جنگ کا آغاز کر دےا ہے۔ نواز شریف کے قوم سے خطاب کو ہم اپنے خلاف اعلان جنگ تصور کرتے ہیں کیونکہ نواز شریف کا ایک طرف مذاکرات کی بات کرکے دوسری جانب دہشت گردوں کے خلاف کا روائےوں کا اعلان ناقابل فہم بات ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ نواز شریف مذاکر ات کس کے ساتھ کرنا چاہتے ہےیں اگر وہ ہمےیں چےیلنج کر رہے ہےیں توہم نے مسلم لیگ (ن) کے خلاف لڑنے کے لئے تیاریاں مکمل کر لی ہے اب ہمیں صرف حکم کا انتظار ہے۔ اب حکومت سے مذاکرات کریں گے یا نہیں اس کا دارومدار حکومتی رویہ پر منحصر ہے ہم دےیکھ رہے ہیں کہ حکومت کس انداز کے ساتھ مذاکر ات مےیں سنجےیدہ ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نو از شریف غیروں کی زبان بولنا بند کر دیں یہی ان کے مفاد میں بہتر ہے۔این این آئی کے مطابق شاہد اللہ شاہد نے کہا ہے کہ عصمت اللہ معاویہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کے کافی قریب ہیں تاہم مذاکرات کے حوالے سے ان کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے۔ طالبان قیادت نے حکومتی پیشکش پر اجلاس طلب کیا ہے جس میں اس حوالے سے تمام چیزوں کا جائزہ لیا جائیگا۔