ضمنی انتخاب: سیاسی جماعتیں ووٹروں کو گھروں سے نکالنے میں ناکام رہیں

لاہور (رپورٹ فرخ سعید خواجہ) ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر حصہ لینے والی جماعتیں ووٹروں کو گھروں سے نکالنے میں قدرے ناکام رہیں اور عام انتخابات میں ووٹوں کی کاسٹ کے مجموعی تناسب 55فیصد کی بجائے ضمنی انتخابات میں مجموعی تناسب 39فیصد رہا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف عام انتخابات میں اپنی جیتی ہوئی بعض نشستوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں جو سیاسی حلقوں کے لئے حیرانی کا باعث بنیں۔ عمران خان این اے 71میانوالی پر ملک وحید خان کو کامیاب نہ کروا سکے۔ اس نشست پر اپ سیٹ ہونے کی وجوہات میں ایک یہ ہے کہ عبیداللہ شادی خیل کے بھائی امانت اللہ خان شادی خیل ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 43میانوالی سے رکن پنجاب اسمبلی ہیں۔ شادی خیل برادران کا ذاتی ووٹ پلس مسلم لیگ (ن) کا ووٹ رنگ لایا اور تحریک انصاف کو شکست ہوئی۔ این اے 1 پشاور سے خالی نشست بھی غلام احمد بلور نے جیت کر بڑا اپ سیٹ کیا۔ اس کی وجہ ایک تو تحریک انصاف کی جانب سے غیرمعروف امیدوار گل بادشاہ بنا۔ دوسرے حاجی غلام احمد بلور کے عام انتخابات میں شکست کے بعد ان سے ناراض ووٹروں کا غصہ بھی قدرے کم ہو گیا تھا اور جب وہ ضمنی انتخابات میں ووٹروں کے پاس حاضر ہوئے تو انہیں معافی مل گئی۔ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی نے کھل کر جبکہ مسلم لیگ ن کے حامیوں نے بھی ان کی درپردہ مدد کی۔ تحریک انصاف کے حلیفوں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے حامیوں نے بھی گل بادشاہ کی بجائے اپنا وزن حاجی غلام احمد بلور کے پلڑے میں ڈال دیا۔ ایک اور بڑا اپ سیٹ پی پی 247راجن پور میں ہوا جہاں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی نشست تحریک انصاف کے سردار علی رضا دریشک نے جیت لی۔ اس اپ سیٹ کی وجہ مسلم لیگ (ن) کے مقامی عہدیداران اور پارٹی ٹکٹ کے خواہاں افراد کی درپردہ مخالفت بنی جو کہ سردار جعفر خان لغاری کی سفارش پر ٹکٹ عبدالقادر ممدوٹ کو دینے پر ناراض تھے۔ تاہم وہ پھر بھی 34ہزار 372ووٹ لے گئے۔ پی پی 243ڈیرہ غازی خان میں سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ کے بیٹوں کی باہمی چپقلش سیٹ گنوانے کا باعث بنی۔ ہشام الدین کھوسہ مسلم لیگ ن، سیف الدین کھوسہ اپنے والد سے بغاوت کر کے پیپلز پارٹی سے امیدوار تھے۔ ان کے مقابلے میں سردار اویس لغاری اور لغاری قبیلے کے حامیوں کے ووٹ حاصل کرنے والے احمد علی خان دریشک نے 23ہزار 99ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ ہشام کھوسہ نے 18ہزار 635سیف کھوسہ نے 17ہزار 644ووٹ لئے۔ دونوں بھائیوں کے مجموعی ووٹ جیتنے والے امیدوار سے کہیں زیادہ ہیں۔ ضمنی انتخابات کے نتائج پر مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ پی پی کے سید خورشید شاہ نے جہاں پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا وہاں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نشستوں پر ان کے امیدواروں کی ہار کو ان کی تین ماہ کی خراب گورننس کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔