ضمنی الیکشن کے نتائج: جنوبی پنجاب اور بڑے شہروں میں مسلم لیگ ن کےلئے آسانی نہیں ہو گی

لاہور (محسن گورایہ سے) پنجاب میں ضمنی الیکشن کے نتائج آئندہ بلدیاتی الیکشن پر بھی اثرانداز ہوں گے، پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی ان نتائج کو سامنے رکھ کر اپنی صفیں درست کر سکتی ہیں۔ ضمنی الیکشن میں عوام نے اشارہ دیا ہے کہ جنوبی پنجاب اور صوبے کے بڑے شہر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے لئے آسان نہیں ہوں گے، اگر (ق) لیگ، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکمران جماعت کے خلاف کوئی اتحاد بنا لیتی ہے تو پھر مسلم لیگ (ن) کے لئے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنما لاہور میں اپنے امیدواروں کے ووٹوں میں گذشتہ الیکشن کی نسبت واضح کمی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ کاٹنے دار مقابلے کی وجہ سے خود بھی تبصرہ کر رہے ہیں کہ انہیں لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور بےروزگاری کے سلسلے میں عوام کو ریلیف اور آسانیاں دینا ہوں گی۔ پیپلز پارٹی کا کوئی بڑا لیڈر پنجاب میں ضمنی الیکشن میں متحرک نظر نہیں آیا مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پنجاب میں ضمنی الیکشن کے دوران تین پرانے سیاسی خاندان وٹو، کھوسہ اور دریشک اپنے صاحبزادوں کے ذریعے سیاست میں زندہ رہنے کے لئے جدوجہد میں مصروف نظر آئے۔ میاں منظور وٹو، سردار ذوالفقار خان کھوسہ اور سردار نصراللہ دریشک 1985ءکے بعد میاں نوازشریف کی قیادت میں اکٹھے سیاست کرتے رہے ہیں مگر بعدازاں علیحدہ علیحدہ ہو گئے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو، سابق گورنر پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ذوالفقار خان کھوسہ اور کئی بار صوبائی وزیر رہنے والے سردار نصراللہ دریشک کے بیٹے صوبائی اسمبلی کے لئے الیکشن لڑ رہے تھے۔ میاں منظور وٹو اپنے بیٹے خرم جہانگیر وٹو اور سردار نصراللہ دریشک اپنے بیٹے علی رضا دریشک کو کامیاب کرا کے اپنے اپنے علاقوں کی سیاست میں ایک بار پھر ”ان“ ہو گئے ہیں۔ سردار ذوالفقار خان کھوسہ اپنی ہی چھوڑی ہوئی نشست پر اپنے بیٹے حسام الدین کھوسہ کو کامیاب نہ کرا سکے۔ منظور احمد وٹو کی سیاست کو اس الیکشن میں سب سے زیادہ خطرہ تھا، کہا جا رہا تھا کہ اگر ان کا بیٹا خرم وٹو کامیاب نہ ہوا تو منظور وٹو کی سیاست دفن ہو جائے گی۔ وہ پیپلز پارٹی پنجاب کی صدارت سے استعفیٰ دے چکے ہیں جو ابھی تک منظور نہیں ہوا۔ ان کی صدارت تو شاید نہ بچ سکے مگر پیپلز پارٹی کو آئندہ بلدیاتی الیکشن کے لئے پنجاب میں ان سے زیادہ بہتر سیاستدان شاید نہ مل سکے۔ تحریک انصاف جو اس وقت پنجاب کی دوسری بڑی جماعت ہے اس کے قائد عمران خان کو عوام کی طرف سے یہ وا ضح پیغام گیا ہے کہ وہ آئندہ بہتر امیدوار سامنے لائیں ورنہ ان کے ساتھ پشاور اور میانوالی جیسا حال ہو گا۔