سابق حکومت نے 8136 ارب روپے کے قرضے لے کر آنے والی نسلوں کو مقروض کر دیا : وزیر مملکت منصوبہ بندی

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) وزیر مملکت ترقی و منصوبہ بندی خرم دستگیر خان نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ پچھلی حکومت نے مختلف ممالک سے 8136 ارب روپے کے قرضے لے کر ہوا میں اڑا دیئے جو گزشتہ ادوار میں مجموعی طور پر لئے گئے قرضوں سے بھی زیادہ ہیں۔ ان قرضوں سے آنیوالی نسلیں مقروض ہو گئیں۔ تحقیقات کر رہے ہیں یہ کہاں خرچ ہوئے۔ معاملہ کو آنیوالی نسلوں کیلئے مثال بنائیں گے۔ گزشتہ روز سپیکر اسمبلی ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ وقہ سوالات میں وزیر مملکت برائے نجکاری خرم دستگیر نے کہا کہ قومی بچت کی سکیموں پر منافع کی شرح میں اضافہ کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ نوجوانوں کیلئے متعارف کرائی گئی سکیموں سے انہیں روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار خان نے کہا گزشتہ 3 برس کے دوران 12 ہزار 145 دہشتگرد گرفتار ہوئے۔صوبوں سے تفصیلات لے رہے ہیں کتنے رہا ہوئے اور کتنوں کو سزا ملی پچھلے 5 سال میں وزیراعظم نے 67 ہزار 522 ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس جاری کئے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ 2 سال میں پچھلی حکومت نے 2 ارب 57 کروڑ ڈالر قرض لیا۔ جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے جون میں 1.46 ارب روپے جمع کئے، اتصالات نے ابھی تک 80 کروڑ ادا نہیں کئے۔ اس وجہ سے اتصالات کو پی ٹی سی ایل پراپرٹی ٹرانسفر نہیں کی۔ ساجد احمد کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت خرم دستگیر خان نے بتایا کہ موبائل فون کے ری چارج پر 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کاٹا جاتا ہے جبکہ 19.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد کی جاتی ہے یہ ٹیکس واپس لینے کی کوئی تجویز نہیں۔ قومی بچت سکیموں پر منافع کی شرح میں اضافے کی بھی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ شہزادی عمر ٹوانہ کے سوال پر جواب میں خرم دستگیر نے کہا کہ 26 کمپنیوں کو سرکلر ڈیٹ کی مد میں 342 ارب روپے شفاف طریقے سے ادا کئے گئے ہیں، اس وقت سرکلر ڈیٹ کی مد میں 70 ارب روپے پھر جمع ہو گئے ہیں، سرکلر ڈیٹ سے مستقل نجات کیلئے کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بجلی کی پیداوار کو تھرمل کی بجائے کوئلے پر منتقل کرینگے۔ پن بجلی سے پیداوار بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ بجلی چوری روکنے سے بھی سرکلر ڈیٹ بہتر ہو گا۔ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کیلئے حکومت نے بجٹ میں 220 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ضمنی انتخابات میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے پر جمعیت علماءاسلام(ف) نے شدید احتجاج کیا۔ نکتہ اعتراض پر جمعیت علماءاسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے کہا ہے کہ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی اور اس حوالے سے قانون سازی کی جائے۔ جبکہ قومی اسمبلی میں وزراء کی عدم موجودگی پر سپیکر نے برہمی کا اظہار کیا اور وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد کو ہدایت کی کہ معاملہ پر وزیراعظم سے بات کریں جس پر شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ وقفہ سوالات کے دوران وزراءکی عدم موجودگی کا معاملہ براہ راست وزیراعظم کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اپوزیشن ارکان نے وقفہ سوالات کے دوران وزراءکی عدم موجودگی پر شدید احتجاج کیا اور سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا سخت نوٹس لیں اور رولنگ جاری کریں، سپیکر نے وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب کو ہدایت کی کہ وہ وزیراعظم سے رابطہ کرکے وزراءکی وقفہ سوالات کے دوران حاضری کو یقینی بنائیں۔ اجلاس ایک ہفتہ بڑھانے کے خلاف اپوزیشن جماعتیں ڈٹ گئیں، سپیکر قومی اسمبلی کی معذرت کے بعد اجلاس میں ایک ہفتہ کی توسیع کردی گئی، اپوزیشن نے بھی اس کی حمایت کر دی۔ جمعہ کے روز اس وقت ایوان میں اپوزیشن نے احتجاج کیا جب سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کو ایک ہفتہ توسیع دینے کی منظوری لینے کی کوشش کی اس موقع پر شیخ رشید نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ حکومت اور پیپلزپارٹی میں ایکا ہوچکا ہے اور تمام فیصلے بند کمرے میں کرنا چاہتے ہیں اگر اسی طرح ایوان چلانا ہے تو پھر ہمارے آنے کا کیا فائدہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اجلاس کی مدت بڑھانے کےلئے تحریک انصاف سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیا گیا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ پارلیمانی روایات کا خیال کریں۔ محمود خان اچکزئی نے کہاکہ صدر آصف علی زرداری 9ستمبر سے اپنے عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں اس لئے 8ستمبر تک صدارتی خطاب پر بحث مکمل کی جائے تو بہتر ہوگا جس پر مخدوم جاوید ہاشمی نے اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ صدارتی خطاب آئین کی ضرورت ہے یہ کسی شخص کی شخصیت سے منسلک نہیں ہے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ اجلاس میں ایک ہفتہ کی توسیع کا فیصلہ کر لیا ہے اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں لیں گے صدر کے عہدے کی مدت 8 ستمبر کو ختم ہو رہی ہے صدارتی خطاب پر بحث کرنا چاہتے ہیں۔ مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ذاتی رہائش گاہ پر تین دن سے بجلی نہیں تھی، سپیکر کی مداخلت سے معاملہ درست ہوا۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں جس پر سپیکر نے کہا کہ وہ اپنے حلقہ کے عوام کا خیال رکھ سکتے ہیں تو ارکان کا خیال رکھنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے بتایا کہ زلزلہ متاثرین میں 71 ارب 94 کروڑ روپے تقسیم کئے گئے بین الاقوامی کنسورشیم سے حکومت کو 87 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ملے۔ دریں اثناءقومی اسمبلی میں 26کمپنیوں کو 342 ارب روپے کے گردشی قرضہ کی ادائیگی کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔ وزیرمملکت برائے نجکاری خرم دستگیر خان نے وقفہ سوالات میں یہ تفصیلات پیش کیں۔ علاوہ ازیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال 2012-13ءکے دوران ریکارڈ 13 ارب 92 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھجوائیں مالی سال 2008-09ءمیں یہ حجم صرف 7 ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اس حوالے سے بھی تفصیلات پیش کی گئیں۔