بھکر : مذہبی گروپوں میں تصادم ‘12 افراد جاں بحق ‘7 زخمی ‘ وزیراعلیٰ کا نوٹس

بھکر+لاہور(نامہ نگار+خصوصی رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ) بھکر کے نواحی علاقہ کوٹلہ جام اور تحصیل دریا خان میں دو گروپوں میں تصادم کے نتیجہ میں 12 افراد جاں بحق اور7 شدید زخمی ہوگئے۔ گزشتہ روز اہلسنت و الجماعت کے میاں غلام محمد کے قتل کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس سے قبل پوری تحصیل میں شٹر ڈاﺅن ہڑتال کی گئی۔ ریلی اختتام پذیر ہونے کے بعد کارکن بھکر سے درےا خان اور پنجگرائیں واپس جا رہے تھے کہ کوٹلہ جام میں انکا سامنا دوسرے گروپ سے ہوگےا، فائرنگ کے تبادلہ میں خان محمد، کاظم حسین اور محب حسین موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہوگئے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی بھکر کی تحصےل درےا خان مےں بھی فائرنگ کر کے ملک مصطفی اور عمران کو قتل کر دےا گےا۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس اور انتظامیہ دونوں مذہبی گروپوں میں تصادم رکوانے میں ناکام ہوگئی۔ کشیدگی کے باعث کاروبار بند کردئیے گئے۔ مشتعل مظاہرین نے ڈیرہ بھکر روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا۔ سرگودھا اور بھکر سے اضافی پولیس نفری طلب کرلی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حالات کنٹرول کرنے کیلئے رینجرز کو بھی طلب کرلیا گیا جبکہ مساجد سے اعلانات ہوتے رہے۔ مظاہرین نے ایم ایم ملتان میانوالی روڈ بھی بلاک کردی۔ مولانا عبدالحمید خالد کے بھتیجے مفتی محمد علی کو بھی اغوا کرنے کی اطلاعات ہیں۔ رینجر اور میانوالی اور لیہ کی پولیس کوٹلہ جام موڑ سے مقتولین کی نعشیں مظاہرین سے بازیاب کرانے کی کوششوں میں رات گئے تک مصروف رہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے بھکر واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ لاقانونیت کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ وزیراعلیٰ نے انتظامیہ کو قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف فوری کارروائی کا حکم دیدیا۔ علاوہ ازیں مجلس وحدت المسلمین نے آج بھکر واقعہ کے خلاف ملک بھر میں سوگ اور احتجاج کا اعلان کردیا۔ سیکرٹری مجلس وحدت المسلمین علامہ ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ ملک بھر میں تین روزہ سوگ منایا جائیگا۔ اتوار کو ملک بھر میں مظاہرے کئے جائیں گے۔ بدامنی کے باعث آج ضلع بھر کے سکول بند رہیں گے۔ بعدازاں ایک گروپ نے دوسرے کے اغوا کئے جانیوالے پانچ افراد کو بھی قتل کردیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی۔