افغان قومی سلامتی کونسل نے کابل حملے میں پاکستانی انٹیلی جنس کو ملوث قرار دیدیا

کابل (اے ایف پی + نوائے وقت رپورٹ) افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی زیر سربراہی نیشنل سکیورٹی کونسل نے الزام عائد کیا ہے کہ کابل کے ریسٹورنٹ میں ہونے والے دھماکوں میں غیر ملکی ایجنسیاں شامل ہیں۔ کونسل نے ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ ایک افغان اہلکار کا بڑی دیر سے یہ کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں سابق طالبان حکومت کا بڑا حامی ہے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جدید ٹیکنالوجی کے حامل اور پیچیدہ حملے عام طالبان کا کام نہیں۔ وہ غیر ملکی انٹیلی جنس کے بغیر ایسا نہیں کرسکتے۔ ایسے حملے سرحد پار سے کئے جارہے ہیں۔ واضح رہے کہ ”سرحد پار سے“ کا جملہ عمومی طور پر پاکستان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اکثر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ بہت سے طالبان رہنماﺅں نے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ آئی ایس آئی کے اثر و رسوخ میں ہیں کیونکہ آئی ایس آئی نیٹو کے انخلا کے بعد ان سے روابط رکھنا چاہتی ہے۔ اس طرح افغانستان نے دو روز پہلے کابل میں غیرملکی ریسٹورنٹ پر خودکش حملے کا الزام پاکستان پر دھر دیا ہے۔ ریسٹورنٹ پر حملے میں 13غیرملکیوں سمیت 21افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس صدر حامد کرزئی کی صدارت میں ہوا جس میں کہا گیا یہ کارروائی عام طالبان کی نہیں، اس میں غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں ملوث ہیں۔ پاکستان نے کابل میں ایک ریستوران پر خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بیان میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی ۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔
افغانستان / پاکستان