بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع، ملک بھر میں 21ہزار سے زائد پولنگ سٹیشن حساس قرار

اسلام آباد + لاہور (راجہ عابد پرویز / خبرنگار + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) ملک میں عام انتخابات کے لئے نامزدگی پیپرز جمع کرانے، سکروٹنی کا عمل، اپیلیں اور ان پر سماعت ، کاغذات نامزدگی کی واپسی، انتخابی نشان الاٹ کرنے اور امیدواروں کی حتمی فہرستیں جاری کرنے کے تمام مراحل مکمل ہو گئے ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے 18 کروڑ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ امیدواروں کی باقاعدہ انتخابی مہم آج ہفتہ سے شروع ہو جائیگی جبکہ عام انتخابات کیلئے ملک کے مختلف حصوں میں 21 ہزار 326 پولنگ سٹیشنوں کو حساس قراردیدیا گیا ہے۔ پنجاب میں 4370 پولنگ سٹیشن حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ پرنٹنگ پریس آف پاکستان اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن کی تمام برانچیں دن رات چھپائی کا کام جاری رکھیں گے، الیکشن کمشن نے پرنٹنگ کے عمل کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے واپڈا کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ فوج کا عملہ پرنٹنگ کے کام کے دوران مکمل سکیورٹی کی فراہمی کے لئے دن رات ڈیوٹی سرانجام دے گا جبکہ پرنٹنگ کے عمل کی نگرانی الیکشن کمشن کا عملہ کرے گا۔ سیکرٹری الیکشن کمشن اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام 30 اپریل تک مکمل کر لیا جائے گا۔ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کے لئے جہاں ضرورت پڑی فوجی ہیلی کاپٹرز اور سی ون 30 ہوائی جہاز استعمال کئے جائیں گے۔ دریں اثنا پنجاب کے الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ ایک ہی نشان کے خواہش مند 2 آزاد امیدواروں کا معاملہ قرعہ اندازی سے حل کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے بیلٹ پیپرز کے لئے سبز اور صوبائی اسمبلی کے لئے سفید رنگ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ پنجاب میں 4 ہزار 370 پولنگ سٹیشن حساس قرار دئیے گئے ہیں۔ پنجاب میں قومی و صوبائی حلقوں کے ووٹرز کے لئے 10 کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔ علاوہ ازیں امیدواروں کی باقاعدہ انتخابی مہم آج ہفتہ سے شروع ہو جائے گی۔ الیکشن کمشن کے مطابق امیدواروں کو انتخابی مہم کیلئے 20 دن ملیں گے۔ 9 مئی کی رات 12 بجے انتخابی مہم ختم ہو جائے گی۔ این این آئی کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلی کے 96 حلقوں میں اقلیتی ووٹرز کا اہم کردار ہو گا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں رجسٹرڈ اقلیتی ووٹرز کی تعداد 27 لاکھ ہے جن میں 14 لاکھ ہندو، 12 لاکھ مسیحی، 6 ہزار سکھ، 3 ہزار 650 پارسی، ایک ہزار 452 بدھ مت اور 809 یہودیوں کے ووٹ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں نادرا ترجمان نے کہا ہے کہ نادرا نے حتمی انتخابی فہرستیں چھاپ کر بلوچستان، خیبرپی کے، سندھ ، پنجاب اور فاٹا کے حوالے کردی ہیں۔ نادرا ترجمان نے حتمی انتخابی فہرستیں کی چھپائی کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار دیتے ہوئے کہا کہ تصویر والی حتمی انتخابی فہرستیں کاپی ایک اور کاپی دو چھاپ کر بلوچستان، خیبرپی کے اور فاٹا کو فراہم کردی گئی ہیں۔ اسی طرح سندھ کی تصویر والی حتمی انتخابی فہرستیں ماسوائے کراچی کے کاپی ایک اور کاپی دو چھاپ کر سندھ کو دے دی گئی ہیں۔ پنجاب کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پنجاب کے 37 اضلاع میں سے 32 اضلاع کی کاپی ایک چھاپ کر پنجاب کو دے دی گئی ہیں جبکہ کاپی 2 پانچ اضلاع کی چھاپ کر پنجاب کو دے دی گئی ہیں۔