پاک فوج کے 14 میں 4 سربراہ سنیارٹی کی بنا پر آرمی چیف بنے، صرف 3 اپنی مدت پوری کرسکے

اسلام آبا د( آئی این پی ) پاک فوج کے اب تک 14 سربراہوں میں سے صرف 4 اپنی سنیارٹی کی وجہ سے آرمی چیف کے عہدہ پر پہنچے ہیں، 14 میں سے صرف 3 اپنی مدت ملازمت پوری کرسکے جبکہ 7 فوجی سربراہوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے یا دیگر وجوہ کی وجہ سے مدت ملازمت میں توسیع حاصل کی۔ جنرل موسیٰ خان 1958ء سے 1966ء تک 8 سال صدر ایوب خان کے فیلڈ مارشل بن جانے پر فوج کے سربراہ رہے جنرل ایوب خان 7 سال، جنرل یحییٰ خان 5سال، جنرل ٹکا خان 4سال، جنرل ضیاء الحق 11سال، جنرل پرویز مشرف 9 سال اور اشفاق پرویز کیانی رواں سال نومبر میں 6 سال پورے کرکے ریٹائر ہوں گے۔1947ء میں قیام پاکستان کے بعد فوج کے پہلے سربراہ جنرل سر فرینک والٹر اگست 1947ء سے فروری 1948ئ، دوسرے سربراہ جنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی فروری 1948ء سے اپریل 1951ء فوج کے تیسرے اور پہلے پاکستانی سربراہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 17 جنوری 1951ء سے 26 اکتوبر 1958ء تک، جنرل محمد یحییٰ خان 18ستمبر 1966ء سے 20دسمبر 1971ء تک، جنرل گل حسن 20 دسمبر 1971ء سے دو مارچ 1972ء تک رہے۔ جنرل گل حسن کو ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث قرار دے کر قبل از وقت فارغ کردیا گیا۔ جنرل ٹکا خان 3مارچ 1972ء سے یکم مارچ 1976ئ، جنرل محمد ضیاء الحق یکم مارچ 1976ء سے 17 اگست 1988ء تک، جنرل مرزا اسلم بیگ 17 اگست 1988ء سے 16 اگست 1991ئ، جنرل آصف نواز جنجوعہ 16 اگست 1991ء سے 8جنوری 1993 تک آرمی چیف رہے۔ جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا جانے کی وجہ سے اپنی مدت پوری نہیں کرسکے تھے۔ جنرل عبدالوحید 12 جنوری 1993 سے 12 جنوری 1996 تک رہے۔ جنرل جہانگیر کرامت 12 جنوری 1996ء سے 7 اکتوبر 1998ء تک چیف آف آرمی سٹاف رہے۔  جنرل جہانگیر کرامت سے نیشنل سکیورٹی کونسل کی تجویز پیش کرنے پر اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے استعفیٰ لے لیا تھا، جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا جو 7 اکتوبر 1998ء سے 28 نومبر 2007ء تک چیف آف آرمی سٹاف رہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نومبر 2007ء سے تاحال چیف آف آرمی سٹاف ہیں۔