پاکستان، بھارت کے بہتر تعلقات امن کی کنجی ہیں: بانکی مون

نیویارک (نیوز ایجنساں+نوائے وقت رپورٹ) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے صدر دفترمیں شروع ہوگیا۔ 68 ویں اجلاس کا افتتاح جنرل اسمبلی کے صدر جون ایشے نے اپنے خطاب سے کیا۔ جنرل اسمبلی کا باضابطہ  اجلاس 24 ستمبر سے شروع ہوگا جو پورا ہفتہ جاری رہے گا۔ 130 ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔ وزیراعظم نواز شریف پیر کے روز نیویارک پہنچیں گے اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں کرینگے۔ وزیراعظم نواز شریف 27ستمبر کو عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرینگے۔ قبل ازیں  اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ امید ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر پاکستان بھارت وزرائے اعظم ایل او سی پر کشیدگی کا حل نکال لیں گے۔ بان کی مون نے کہا کہ پاکستان، بھارت تعلقات کی بہتری کا معاملہ میرے ایجنڈے میں سرفہرست ہے اور انہوں نے نواز شریف کو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری ساری دنیا کے لئے اہم اور خطے میں امن کی کنجی ہے۔ اس موقع پر امریکی خصوصی نمائندے جیمز ڈوبنز نے کہا کہ پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری پوری دنیا کیلئے اہم ہے۔ امریکہ ایسے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے جس سے پاکستان بھارت تعلقات بہتر ہوں۔ دریں اثناء پاکستان اور بھارت کے وزراء اعظم کی ملاقات 29 ستمبر کو طے پا گئی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی نے پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نواز شریف کی امریکی صدر بارک اوباما سے ملاقات بھی طے پا گئی۔ وزیراعظم اپنے دورہ کے دوران خصوصی طیارے میں پہلے برطانیہ جائیں گے۔ آن لائن کے مطابق اوباما اور نواز شریف  کے درمیان نیویارک میں  باقاعدہ  ملاقات نہیں ہو سکے گی۔ پاکستانی اور امریکی سفارتکاروں نے تصدیق کی ہے کہ  ملاقات کا امکان نہیں ہے۔ امریکی سفارتکار نے کہا کہ  صدر اوباما مصروف شیڈول  کی وجہ سے وزیراعظم  نواز شریف سے ملاقات نہیں کرسکیں گے جبکہ نواز شریف  22 سے  29ستمبر    تک  نیویارک میں   ہوں گے۔ دونوں رہنمائوں کو صدر اوبام کی طرف سے   چوبیس ستمبر  کو  عالمی لیڈروں  کے اعزاز میں ظہرانہ   میں صرف ہاتھ ملانے   کا  موقع ملے گا۔ وزیراعظم کو صدر اوباما سے   ملاقات کے لیے اکتوبر کے آخر یا نومبر  کے پہلے ہفتے میں اپنے پہلے باضابطہ  دورہ امریکہ کا انتظار کرنا ہوگا۔