جماعت اسلامی اور جے یو آئی (س) کے بغیر متحدہ مجلس عمل فعال کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت نیوز + ایجنسیاں) متحدہ مجلس عمل میں شامل پانچ دینی جماعتوں نے ایم ایم اے کو جماعت اسلامی اور جے یو آئی (س) کے بغیر فعال بنانے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے تاہم اس کا تنظیمی ڈھانچہ بنانے کے لئے جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کی دعوت پر ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہو گا۔ دینی جماعتوں کی قیادت کے اجلاس میں جماعت اسلامی کی عدم شرکت کے باعث ایم ایم اے کی بحالی کا باضابطہ اعلان کیا جا سکا اور نہ دینی جماعتوں کی جانب سے کوئی رہنما جماعت اسلامی کی عدم شرکت پر بات کرنے کے لئے تیار تھا، اس بارے میں کئے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا گیا اور کہا گیا کہ دینی جماعتوں کے اجلاس میں جماعت اسلامی کو زیر بحث ہی نہیں لایا گیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے استفسار پر بتایا کہ دینی جماعتوں کے آئندہ اجلاس میں شرکت کے لئے جماعت اسلامی نے رابطہ قائم کیا تو ہم اس پر غور کریں گے۔ ایم ایم اے کی حتمی بحالی کا اعلان عید کے بعد کیا جائے گا۔ بدھ کو متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کی قیادت کا ایک غیر معمولی اجلاس جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر کی دعوت پر ایف 7/4 میں چودھری عبدالرحمن کی رہائش گاہ پر مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہوا۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف)، مرکزی جمعیت اہلحدیث، اسلامی تحریک اور جے یو پی کے عہدےداروں نے شرکت کی جبکہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے عہدےدار شریک نہیں ہوئے۔ اجلاس میں سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے ایم ایم اے کو فعال کرنے کا اعلان کر دیا جبکہ مکمل بحالی کا فیصلہ بعد میں کیا جائیگا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ایم ایم اے کو فعال کرنے کا اصولی اتفاق کر لیا گیا۔ ایم ایم اے کی مکمل بحالی کیلئے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی۔ مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ اجلاس میں جماعت اسلامی کے معاملے پر بات نہیں ہوئی۔ اگر جماعت کے رہنماﺅں نے رابطہ کیا تو غور کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد میں بھی کسی نئے آپریشن پر قدغن لگائی گئی ہے۔ ہم ہر ظلم کیخلاف ہیں، چاہے وہ ملالہ ہو یا عافیہ، ہم سب کی مذمت کرتے ہیں۔ حکومت نے قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو منہ کی کھانا پڑیگی۔ طالبان غلط کام کریں تو یہ اچھالا جاتا ہے جبکہ کراچی میں روزانہ 10 قتل ہو رہے ہیں اس پر کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔