زیادتی کیس : بچی کو گنگا رام ہسپتال چھوڑنے والے کا خاکہ جاری‘ ملتا جلتا شخص گرفتار

زیادتی کیس : بچی کو گنگا رام ہسپتال چھوڑنے والے کا خاکہ جاری‘ ملتا جلتا شخص گرفتار

لاہور(نامہ نگار+نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) پولیس 5 سالہ بچی کو اغواء کے بعد زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کر سکی ہے اور نہ ہی ملزمان کا سراغ لگایا جاسکا ہے جبکہ پولیس نے تمام سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک لیبارٹری بھجوا دی ہیں اور گنگا رام ہسپتال میں بھی تفتیش کا دائرہ کار وسیع کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تاحال ملزمان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ پولیس نے بچی گود میں اٹھا کر ہسپتال لیکر آنیوالے شخص کی 6 بجکر 54 منٹ سے لیکر سروسز ہسپتال لے جانے تک 8 بجکر 20منٹ تک کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فرانزک لیبارٹری بھجوائی ہے تاکہ اسے مزید کلیئر کیا جاسکے۔ فوٹیج کے مطابق بچی کو 6 بجکر 52 منٹ پر کاسنی شرٹ اور سبز ٹرائوزر والا شخص جس کے ٹرائوزر پر پیچھے انگلش حرف (P) لکھا تھا لایا۔ جس کے بعد وہ بچی کو ایم ایس آفس کے سامنے چھوڑ کر چلا گیا۔ اسکے بعد بچی پانچ منٹ منڈیر پر بیٹھی رہی اسکے بعد 7 بجے سے 8 بجکر 24 منٹ تک ڈیڑھ گھنٹے کی فوٹیج جاری نہ ہونے سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے تھے۔ گزشتہ روز یہ فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ 7 بجکر ایک منٹ پر دو خواتین اس بچی کے پاس آتی ہیں اور کچھ دیر گفتگو کے بعد بچی کو لیکر کیمرے کی حدود سے نکل جاتی ہیں لیکن وہ بچی کو ہسپتال کے باہر لیکر نہیں جاتیں بلکہ گیٹ پر موجود گارڈ کے پاس چھوڑ جاتی ہیں 7 بجکر 6 منٹ پر یہ بچی ہسپتال میں زیر علاج تھیلسمیا کی مریضہ کی والدہ اور منڈی فیض آباد کی رہائشی مریم کو ملی جو بچی کے ورثاء کو ڈھونڈنے کیلئے اسے گائنی اور چلڈرن وارڈ میں شناخت کے لئے لے گئی مگر بچی کے ورثا کا پتہ نہ چلنے پر 9 منٹ بعد بچی کو الٰہی بخش گارڈ کے حوالے کردیا جس نے ہسپتال میں بچی کے ورثاء کو ڈھونڈنے کیلئے اعلان کرائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بچی کو ملزموں نے نشہ آور شے پلائی تھی جس کی وجہ سے وہ سکتے یا پھر نشے کی حالت میں نارمل سی دکھائی دے رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو سر کھجانے کیلئے حرکت دیتی دکھائی دی جس کے بعد سکیورٹی گارڈ الٰہی بخش نے بچی دوسرے سکیورٹی گارڈ قدوس کو دی جو بچی کو چلڈرن ایمرجنسی میں لے گیا جہاں ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ چلڈرن ایمرجنسی کے ڈاکٹروں نے اسے مین ایمرجنسی بھجوا دیا اور قدوس گارڈ اسے مین ایمرجنسی لے گیا جس کے بعد 8 بجکر 17 منٹ پر ڈاکٹروں نے تمام حالات علم میں آنے پر اسے سرجری کیلئے سروسز ہسپتال منتقل کردیا۔ پولیس حکام نے گزشتہ روز گنگارام ہسپتال دوبارہ تمام حالات و واقعات کا جائزہ لیا اور ہسپتال کے عملہ، ڈاکٹروں و سکیورٹی گارڈز سمیت 22 افراد کے بیانات قلمبند کئے اور مشکوک افراد سے تفتیش کی مگر ذرائع کے مطابق تاحال ملزمان کا سراغ نہیں مل سکا۔ پولیس کی پہلے سے گرفتار 22 افراد سے بھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کو فرانزک لیبارٹری سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے رپورٹ اور صاف امیج دو روز تک ملنے کا امکان ہے۔ دریں اثنائلاہور کے سروسز ہسپتال میں زیادتی کا شکار زیر علاج پانچ سالہ بچی کی صحت بہتر ہونے لگی ہے تاہم ڈاکٹرز نے پو لیس کو  فی الحال  بیان لینے سے روکدیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق بچی کتابوں اور کھلونوں سے بہل رہی ہے، دو سے تین ہفتوں میں دوبارہ سرجری کی جائیگی۔ صرف بچی کے و الدین کو ملنے کی اجازت ہے اور جلد صحت یاب ہوجائیگی۔بچی کے اعضاء کی تھراپی کیلئے جدید سٹیمولیٹرز منگوا لئے گئے ہیں۔ ادھر پولیس نے 5 سالہ بچی کو گنگارام ہسپتال چھوڑ کر جانیوالے شخص کا سی سی کیمروں کی مدد سے خاکہ تیار کرکے عوام الناس کیلئے شناخت کی خاطر جاری کردیا۔ شام کو خاکے سے ملتی جلتی شکل والے شخص ظفر اقبال کو مغلپورہ سے گرفتار کرلیا جو مالشیا ہے۔ ظفراقبال مسلسل جرم کا انکار کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس واقعہ سے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ پولیس نے اسکی شرٹ پر خون کے دھبے لگے دیکھ کر شرٹ کو لیبارٹری تجزیے کیلئے بھجوا دیا۔ علاوہ ازیں صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور نے زیادتی کا شکار بچی کی عیادت کیلئے سروسز ہسپتال کا دورہ کیا اور بچی کیلئے اس کے لواحقین کو گلدستہ، کتابیں، کھلونے اور چاکلیٹس پیش کیں۔