دہشت گردوں کے سامنے سر جھکایا تو ملک صومالیہ بن جائیگا: الطاف

 لندن (اے این این) الطاف حسین نے کہا ہے کہ فوجی قافلے پر حملے سے امن عمل کو دھچکا لگا، نوازشریف آل پارٹیز کانفرنس دوبارہ بلائیں، ہم مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن صورتحال کو دیکھ لیں، دہشت گردوں کے سامنے سر جھکایا تو پاکستان صومالیہ بن جائیگا، کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف آپریشن بلاتفریق ہونا چاہئے، کسی بے گناہ کو گرفتار نہ کیا جائے جہاں سے بھتے کی پرچیاں آتی ہیں وہاں کارروائیاں کی جائیں۔ اپنی سالگرہ پر کراچی سمیت ملک کے 36 شہروں میں بیک وقت ٹیلیفونک خطاب کے دوران الطاف حسین نے کہا کہ بحیثیت قوم ہم سے بہت غلطیاں ہوئی ہیں لیکن اب ہمیں اپنا اصلاح کرنا ہو گی اور بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی ایسا ہی کرنا ہوگا۔ ارباب اختیار طاقت کا ناجائز استعمال کرینگے تو وہ بھی احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔ پاکستان جب سے بنا ہے ہم نے کچھ پایا نہیں بلکہ کھویا ہی کھویا ہے۔ عالمی سطح پر ہم ہر لحاظ سے بدنام ہو چکے ہیں۔ الطاف حسین نے مزید کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر آرمی چیف اور تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ کیا کہ ہمیں مذاکرات کرنے چاہئیں اور ایم کیو ایم نے بھی اس کی تائید کی لیکن دہشت گردوں نے اس کا انتہائی ناجائز فائدہ اٹھایا اور پاک فوج کے دو افسران کو شہید کر دیا لیکن فوج سے اپیل کرتے ہیں طالبان سے مذاکرات کرے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں ملا۔ ہمیں دہشت گردوں سے بہت مشکل حالات درپیش ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ کارکن میری طرف سے ہر گز پریشان نہ ہوں میں مکمل محفوظ ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والا نہیں۔ انہوں نے کارکنوں سے عہد لیا کہ کسی بھی جرم میں شامل نہ ہوں۔ میں کراچی کے کارکنوں کو کہتا ہوں کہ اگر انہیں نوکری نہیں ملتی تو وہ بھیک مانگ لیں لیکن گلی محلے میں چوری، ڈاکے نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی اپنوں سے دور خوشی سے رہنا پسند نہیں کرتا، میں پاکستانی تھا، ہوں اور رہوں گا، مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور پاکستانیت کو کوئی ان سے جدا نہیں کر سکتا۔ علاوہ ازیں سابق صدر زرداری نے الطاف حسین کو فون کر کے سالگرہ پر مبارکباد دی۔