بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر کی عمر قید سزائے موت میں بدل دی

ڈھاکہ (نوائے وقت نیوز) بنگلہ دیشی  سپریم کورٹ  نے جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر  مولا  کو جنگی جرائم کے الزامات  میں سزائے موت  سنا دی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی  کے مطابق جماعت اسلامی  بنگلہ دیش کے 65 سالہ رہنما  عبدالقادر کو جنگی جرائم میں ملوث ہونے پر عدالت نے سزائے موت سنا دی۔ رہنما جماعت اسلامی کو 1971ء کی جنگ میں قتل عام کے جرم میں سزا سنائی گئی جماعت  اسلامی  کے رہنما کافی عرصے  سے گرفتار تھے اور ان کے خلاف جنگی  جرائم کا مقدمہ زیر سماعت تھا۔ عبدالقادر کو کچھ عرصے قبل ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی تاہم اب عدالت نے عبدالقادر  کی عمر قید کوسزائے موت میں تبدیل کردیا ہے۔  عبدالقادر کے وکیل تاج الاسلام  نے کہا کہ فیصلے   پر ہمیں شدید  صدمہ پہنچا ہے۔  انہوں  نے کہا کہ جنوبی ایشیا  کی تاریخ میں پہلی  بار ایک ٹرائل  کورٹ  کی طرف سے سنائی گئی  سزا کو سپریم کورٹ  نے بڑھا کرسزائے  موت  میں تبدیل کیا ہے۔  سیکولر جماعتوں نے رواں سال  کے آغاز میں عبدالقادر  مولا کو سزائے موت دینے کے حق میں  زبردست مظاہرے بھی کئے تھے۔  عبدالقادر کو سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد جماعت اسلامی  کے کارکنوں نے ڈھاکہ  سمیت  کئی  شہروں میں زبردست   مظاہرے کئے، جلائو گھیرائو کے واقعات  میں متعدد گاڑیوں کو نذر  آتش کر دیا گیا۔