دفاع پاکستان کارواں میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ سٹاف رپورٹر) بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کے خلاف دفاع پاکستان کونسل کے مسجد شہداءمال روڈ سے واہگہ بارڈر تک دفاع پاکستان کارواں میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر امڈ آیا۔ کارواں کے دوران لکشمی چوک، ریلوے سٹیشن، گڑھی شاہو، باغبانپورہ، شالامار چوک، سلامت پورہ، داروغہ والا اور جلو موڑ پر مقامی تاجروں اور شہریوں کی جانب سے دفاع پاکستان کارواں کے شرکاءکا زبردست استقبال کیا گیا۔ کارواں کے راستوں میں ہزاروں افراد پر مشتمل درجنوں قافلے شامل ہوئے خاص طور پر موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوان جماعتہ الدعوة کے کلمہ طیبہ والے اور پاکستانی پرچم اٹھائے واہگہ بارڈر جانے کیلئے انتہائی جوش و خروش کے ساتھ کارواں کے ساتھ چلتے رہے۔ تاجروں نے شالامار چوک پر بہت بڑا سٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے شرکاءسے اظہار یکجہتی کیلئے اعلانات کئے جاتے رہے۔ تاجروں نے شرکاءپر زبردست گلپاشی کی۔ کارواں کے شرکاءنے شالامار چوک اور کار پارکنگ میں نماز ظہر اور نماز عصر ادا کی۔ دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے قائدین نے دفاع پاکستان کارواں کے بہترین انتظامات پر حافظ محمد سعید اور جماعة الدعوة کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا سمیع الحق، حمید گل، شیخ رشید احمد، سراج الحق، مولانا عبدالقادر لونی، فرید پراچہ، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، حافظ عبدالغفار روپڑی و دیگر نے کہا کہ یہ ہر لحاظ سے تاریخی پروگرام ہے۔ جماعة الدعوة نے اس پروگرام کی میزبانی کا حق ادا کیا۔ یہ کارواں پاکستان کی تاریخ کا منفرد ترین پروگرام تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے واہگہ بارڈر کی طرف مارچ کیا۔ سکیورٹی کے فرائض جماعة الدعوة کے تین ہزار سے زائد رضاکاروں نے سرانجام دئیے۔ جماعة الدعوة کی جانب سے گاڑیوں پر لوہے کے راڈ فکس کر کے لگائے گئے۔ سی سی ٹی وی کیمرے اور کارواں کی مکمل سکیورٹی مانیٹرنگ کے انتظامات دیکھ کر پولیس افسر مبارکبادیں پیش کرتے نظر آئے۔ یہ درحقیقت جماعة الدعوة کا دفاع پاکستان کارواں ثابت ہوا۔ ہزاروں موٹر سائیکلوں، کاروں اور ویگنوں کی تاحد نگاہ پھیلی قطاروں میں ہر طرف جماعة الدعوة کے کارکنان اور کلمہ طیبہ والے پرچم لہراتے نظر آئے دیگر جماعتوں کے کارکن بھی شریک تھے۔ کارواں کے آغاز سے قبل مرکزی قائدین نے مسجد شہداءمال روڈ میں نوافل ادا کئے۔ کارواں کے موقع پر فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی طرف سے فیلڈ ہسپتال قائم کیا گیا تھا۔ 50 ایمبولینس گاڑیاں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کارواں کے ساتھ رہیں۔ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے میڈیکل مشن کے ڈاکٹر بھی ایمبولینسوں میں موجود رہے۔