مشرف کی ضمانت کیخلاف درخواست، چیف جسٹس کے بعد جسٹس ناصرالملک نے بھی معذرت کرلی

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز+ایجنسیاں) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بعد جسٹس ناصرالملک نے بھی ججز نظربندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرانے کی درخواست کی سماعت سے معذرت کر لی۔ نئے بنچ کی تشکیل کیلئے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا گیا۔ ججز نظربندی کیس میں جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پیر کو سابق صدر پرویز مشرف کی ضمانت منسوخ کرانے کی درخواست کی سماعت کرنا تھی۔ جسٹس ناصرالملک نے کیس کی سماعت سے معذرت کرلی۔ درخواست گزار اسلم گھمن ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئندہ پیشی کیلئے کوئی تاریخ مقرر کر دیں۔ اس پر جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ جب میں مقدمے کی سماعت نہیں کرنا چاہتا تو تاریخ کیسے مقرر کر دوں، جو نیا بنچ بنے گا وہی تاریخ مقرر کریگا۔ جسٹس ناصرالملک نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے نئے بنچ کی تشکیل کیلئے کیس چیف جسٹس کو بھجوا دیا جس کے بعد درخواست کی غیر معینہ عرصے تک سماعت ملتوی کردی گئی۔ اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی پرویز مشرف ضمانت منسوخی کیس کی سماعت سے معذرت کرچکے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق جسٹس ناصرالملک نے کہا کہ وہ 3 نومبر 2007ءکو اس بنچ میں شامل تھے جس نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور سول و فوجی حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران پرویز مشرف کے احکامات کو تسلیم نہ کریں، اسکے علاوہ ان ججز میں بھی شامل تھے جنہیں ایمرجنسی لگنے کے بعد انکے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اگر درخواست کی سماعت کے دوران ملزم کی ضمانت منسوخ ہو جاتی ہے تو یہ تاثر سامنے آئے گا کہ جج نے جانبداری کا مظاہرہ کیا۔