لاپتہ افراد کیس: فوج اور رینجرز کے خلاف بھی کافی شکایات ملتی ہیں‘ متوازی ٹربیونل نہیں بنائے جا سکتے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری فاٹا اور پاٹا کو نوٹس جاری کر کے دو لاپتہ افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کر نے کا حکم دیتے ہوئے ریویو بورڈ کی تشکیل کردہ رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے حراستی مراکز میں قید افراد کی اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج اور رینجرز کے خلاف بھی کافی شکایتیں موصول ہوتی ہیں، لاپتہ افراد سے متعلق جسٹس منصور عالم کمشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، فاٹا کے ارکان منتخب ہو کر آتے ہیں، قانون سازی میں حصہ لیتے ہیں، آرٹیکل دس کے تحت بنیادی حقوق کی پاسداری ہونی چاہئے، فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا پیر کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہاکہ حراستی مراکز میں رکھے گئے افراد کو بغیر سنے سزائیں دی جاتی ہیں، اب یہ کیسز چھپنے والے نہیں ہیں، متوازی ٹربیونل قائم نہیں کیے جا سکتے، ٹربیونل کا سربراہ سینئر جج ہوتا ہے، ہر کسی کو بٹھا کر ٹربیونل نہیں بنایا جا سکتا، لاپتہ افراد کا تو نہیں پتا مگر ان کے اہل خانہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاپتہ افراد سے متعلق جسٹس منصور عالم کمشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ارکان منتخب ہو کر آتے ہیں اور قانون سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ آرٹیکل دس کے تحت بنیادی حقوق کی پاسداری ہونی چاہئے۔ فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، حراستی مراکز میں قید افراد کی اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 504 افراد حراستی مراکز میں ہیں، معلوم تو ہو کہ کون قیدی زندہ ہے اور کون مرگیا، بتائیں کس کے حکم پر قیدیوں کی اہل خانہ سے ملاقات نہیں کرائی جارہی، اسے عدالت میں پیش کیا جائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی، ہر صوبے کو چاہئے تھا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کے عدالت آنے جانے کے اخراجات اٹھاتا، کئی افراد کے کیسز ختم ہو گئے ہیں لیکن انہیں ابھی بھی اہل خانہ سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ عدالت نے سیکرٹری فاٹا اور پاٹا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریویو بورڈ کی تشکیل کردہ رپورٹ طلب کر لی ہے عدالت نے آئی جی پنجاب اور خیبر پی کے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں لاپتا افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا، مزید سماعت سترہ جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔ دریں اثناءاے پی پی کے مطابق سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمات میں سیکرٹری فاٹا اور پاٹا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے حراستی مراکز میں موجود لاپتہ افراد کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔