حکومت ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس سے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچتی ہو

حکومت  ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس سے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچتی ہو

لندن (بی بی سی) بھارت کے چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیہ نے بھارتی یوم آزادی پر حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت عدلیہ کی جوابدہی کا بل عجلت میں وضع نہ کرے کیونکہ اس سے عدلیہ کی آزادی کے آئینی فلسفے کو چوٹ پہنچ سکتی ہے۔ جسٹس کپاڈیہ نے سپریم کورٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدلیہ کی جوابدہی کے لئے ایسی قانون سازی سے گریز کرے جس سے عدلیہ کی آزادی کو زک پہنچتی ہو۔ جج حضرات جوابدہی کے قانون کے حق میں ہیں لیکن اس قانون سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی اثر نہیں پڑنا چاہئے۔ ’ججوں کو جوابدہ بنانے کے لئے حکومت قانون بنا سکتی ہے۔ ہم اس قانون سے خوف نہیں کھاتے لیکن اس سے عدلیہ کی آزادی کا آئینی اصول نہیں مجروح ہونا چاہئے‘۔ چیف جسٹس ’عدالتی معیار اور جوابدہی بل‘ کا ذکر کر رہے تھے جو لوک سبھا میں منظور کیا جا چکا ہے اور ایوان بالا راجیہ سبھا میں زیرغور ہے۔ اس بل کی ایک شق پر ججوں اور ماہرین قانون کی طرف سے تشویش ظاہر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے ’کوئی بھی جج کھلی عدالت میں مقدمات کی سماعت کے دوران کسی بھی آئینی، قانونی ادارے یا اہلکار کے خلاف کوئی غیرضروری مشاہدہ نہیں کرے گا‘۔ ججوں کا کہنا ہے کہ اس شق سے کھلی عدالت میں حکومت اور اہلکاروں کے خلاف تبصرہ اور مشاہدہ کرنے کی ججوں کی آزادی ختم ہو جائے گی۔ اس بل میں شہریوں کے ذریعے بدعنوان ججوں کے خلاف شکایات درج کرنے کی تجویز بھی ہے۔ جسٹس کپاڈیہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ آئین میں کسی طرح کی ترمیم سے پہلے بہت مفصل مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ جج کئی بار انصاف دینے کے عمل میں اپنی حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اور ایسے فیصلے دے دیتے ہیں جن سے مملکت کی تینوں شاخوں کا آئینی توازن متاثر ہوتا ہے۔ جسٹس کپاڈیہ نے زور دے کر کہا ایسا کوئی شعوری قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے اس توازن پر اثر پڑے کیونکہ عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان اختیارات کے توازن میں کسی طرح کی تبدیلی سے آئین کو دائمی نقصان پہنچے گا۔