امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان، افغانستان اور ایساف کی مربوط کارروائی کا خواہشمند ہے

امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان، افغانستان اور ایساف کی مربوط کارروائی کا خواہشمند ہے

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ + آن لائن) امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر شدید تحفظات کے اظہار کے بعد اسے دہشت گرد قرار دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف پاکستان، افغانستان اور ایساف کی مربوط کارروائی کا خواہشمند ہے اور اس معاملے پر امریکہ کی پاکستان اور افغانستان میں بات چیت جاری ہے۔ میڈیا بریفنگ میں ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دینے سے متعلق بل پر صدر اوباما نے جمعہ کو دستخط کئے، جس کے بعد امریکی وزیر خارجہ 30 دن میں کانگریس کو رپورٹ دیں گی کہ حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ وکٹوریا نولینڈ سے سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان افغانستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کرے تو امریکہ اس کی حمایت کرے گا یا مخالفت، انہوں نے جواب دیا کہ یہ مفروضات ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے امریکہ سے اہم تعلقات ہیں۔ سرحدی دراندازی کے خلاف امریکی حکام نے پاکستان، افغانستان اور ایساف کے درمیان تعاون پر زور دیا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے بارے میں امریکی م¶قف میں نرمی نہیں آئی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی اعلیٰ سطح رابطہ دونوں ممالک کے درمیان بہتری پیدا کرے گا۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان نے اگر دہشت گردی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جو عالمی امن کیلئے بڑا سنگین خطرہ ثابت ہونگے، پریس کانفرنس کی مزید تفصیلات کے مطابق لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں ہمیں ہر وقت خطرات لاحق رہتے ہیں۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اچھے تعلقات ہونے چاہئیں۔