بلوچستان کابینہ کی تشکیل کا عمل 4 ماہ بعد مکمل ‘11 وزراء5 مشیروں نے حلف اٹھا لیا

کوئٹہ (بیورو رپورٹ + این این آئی) بلوچستان کابینہ کی تشکیل مکمل ہو گئی گزشتہ روز 11 نئے وزراءاور 5 مشیروں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی نے گورنر ہاﺅس کے سبزہ زار پر سادہ پروقار تقریب میں حلف لیا حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سینئر صوبائی وزیر نواب ثناءاللہ زہری اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ مسلم لیگ کے جن پانچ وزراءنے حلف لیا ان میں نوابزادہ چنگیز مری، میر سرفراز ڈومکی،اظہار کھوسو میر سرفراز بگٹی، مسلم لیگ ق کے شیخ جعفرخان مندوخیل پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، مصطفی ترین، اور نواب ایاز خان جوگیزئی جبکہ نیشنل پارٹی کے رحمت بلوچ، سردار اسلم بزنجو اور مجیب الرحمن محمد حسنی شامل ہیں اس طرح 11وزراءکے حلف اٹھانے کے بعد بلوچستان کی کابینہ 14وزراءپر مشتمل ہوگئی ہے مشیروں اور وزراءکے محکموں کا اعلان عید کے بعد کیا جائیگا۔ مشیروں میں اکبر اسکانی، در محمد ناصر، عبدالماجد ابڑو شامل ہیں۔ دریں اثنا بلوچستان کابینہ میں شامل مسلم لیگ ن کے وزراء کو محکمے الاٹ کردئیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق ثناءاللہ زہری کو محکمہ مواصلات و تعمیرات، نوابزادہ چنگیز مری کو آبپاشی و انرجی، سرفراز ڈومکی کو محکمہ محنت و افرادی قوت، سرفراز بگٹی کو محکمہ داخلہ و قبائلی علاقہ جات، میر اظہار خان کھوسہ کو محکمہ خوراک، عبدالماجد ابڑو کو زکوٰة و عشر، سوشل ویلفیئر، حاجی اکبر اسکانی کو فشریز پسنی فش ہاربر، محمد خان شاہوانی کو ایس اینڈ جی اے ڈی، اسلم بزنجو کو زراعت، رحمت بلوچ کو محکمہ صحت، مجیب الرحمان کو سپورٹس اینڈ کلچر، خالد لانگو کو مشیر خزانہ بنایا گیا ہے، دیگر وزراءمشیروں کے محکموں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دریں اثنا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا آج کابینہ میں توسیع کے بعد کابینہ مکمل ہوگئی ہے 22تاریخ کو صوبائی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں خاص طور پر امن وامان سمیت دیگر امور پر غوروخوض کیا جائیگا اور اہم فیصلے کئے جائینگے۔ کابینہ مکمل ہونے کے بعد اب عوام بلوچستان میں تبدیلی ضرور محسوس کرینگے۔ انہوں نے کہاکہ زلزلے کے بعد سب سے پہلے میں صوبائی وزراءوفاقی وزراءپنجاب سندھ کے وزراءاعلیٰ وہاں پہنچے اور عوام کی مدد کی حکومت اب بھی ان کی بحالی کیلئے کوششوں میں مصروف ہے اور انہیں جلد ریلیف مزید دیا جائیگا اور جب تک وہاں پر زلزلے سے متاثر ہونے والے کی بحالی نہیں ہوتی اس وقت تک ہم کوششوں میں مصروف رہینگے جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ دعویٰ کرتے تھے کہ صوبائی کابینہ میں مڈل کلاس کے وزراءکو لیا جائیگا اور اس وقت آپ کی کابینہ میں 9سے زیادہ سردار نواب اور سرمایہ دار ہیں تو انہوں نے کہاکہ علاقے کے لوگوں نے ان کو منتخب کیا ہے میں نے تو صرف ان کو وزیر بنایا ہے اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کو ہم نے ایک خط لکھا ہے کہ انٹرنیشنل اداروں کو زلزلے سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے آواران آنے کی اجازت دی جائے ابھی تک وفاقی حکومت کا کوئی جواب نہیں آیا ہے امید ہے کہ جلد ہی جواب آجائیگا اور انٹرنیشنل ادارے کے لوگ کام کرنا شروع کردینگے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کابینہ میں خواتین کو نمائندگی نہیں دی گئی تو انہوں نے کہاکہ ہونی چاہئے تھی۔