پٹرولیم مصنوعات پر مختلف اداروں کے منافع اور عائد ٹیکسوں کی تفصیلات طلب

پٹرولیم مصنوعات پر مختلف اداروں کے منافع اور عائد ٹیکسوں کی تفصیلات طلب

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست پر مختلف اداروں کی جانب سے ان پر حاصل کئے جانے والے منافع اور عائد ٹیکسوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کی۔ وزارت پٹرولیم کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کے متعلق تفصیلی رپورٹ جمع کرا دی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اوگرا، اوجی ڈی سی ایل اور پی ایس او سمیت دیگر ادارے پٹرولیم مصنوعات سے اربوں روپے کما رہے ہیں اس کے باوجود بے تحاشا ٹیکس عائد کئے گئے ہیں یہ پالیسی عوام کو دو طرح سے لوٹنے کے مترادف ہے۔ ریاست شہریوں سے منافع نہیں لے سکتی۔ عدالت قیمتوں میں حالیہ اضافے کا نوٹفیکیشن کالعدم قرار دے۔ عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ پٹرولیم مصنوعات پرمختلف اداروں کے منافع اور ٹیکسوں کی تفصیلات جمع کر کے اگلی تاریخ پر عدالت میں پیش کریں۔ فاضل عدالت نے مزید سماعت 9جنوری تک ملتوی کر دی۔