مزید 15 کشمیری طلبہ کو ہریانہ کے تعلیمی ادارے سے نکال دیا گیا، والدین کا احتجاج

سرینگر (آن لائن)بھارت کی ریاست ہریانہ کے روہتک کالج آف انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ کی انتظامیہ نے پندرہ کشمیری طلباء کو بھارتی حکومت کی طرف سے سکالرشپ کے وعدے کے باوجود رقم نہ ملنے پر ادارے سے بے دخل کر دیا۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق طلباء کاتعلق غریب خاندانوں سے ہے اور کالج سے بے دخلی کے بعد وہ کرایے کے کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔طلباء کے ایک گروپ نے سرینگر میں صحافیوں کو ٹیلیفون کرکے بتایا کہ ہریانہ کے روہتک کالج آف انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ میں داخلے کے وقت وزیراعظم سپیشل سکالر شپ سکیم کے تحت انہیں کل وقتی سکالرشپ دینے کاوعدہ کیا گیا تھالیکن دو سال کے بعد کالج انتظامیہ نے ان سے کورس فیس کا مطالبہ کرتے ہوئے کالج سے نکال دیاہے ۔ انہوں نے کہا انہیں امتحانات میں شرکت سے بھی روکا جارہا ہے اور ان کا مستقبل تاریک بنایا جارہا ہے۔ طلباء نے کہا کہ کالج انتظامیہ نے ان سے دھوکہ کیا ہے اور کوئی انکی بات سننے کے لیے تیا ر نہیں ہے۔درین اثناء روہتک کالج کے ڈائریکٹر نے کشمیری طلباء کو ادارے سے بے دخل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی وزیر اعظم کی خصوصی سکالر شپ سکیم کے تحت جن طلباء کو ادارے میں داخلہ دیا گیا تھا حکومت کی طرف سے ان کی سکالر شپ کی رقم ادارے کو مو صول نہیں ہوئی ہے اس لیے ان کو کالج سے نکال دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد کشمیری طلباء کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور اسی طرح بھارت کے تعلیمی اداروں سے نکالا گیاہے ۔ دریں اثناء ضلع اسلام آباد میں وزیر اعظم خصوصی سکالر شپ کے تحت ریاست سے باہر تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے والدین نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے بچوں کو بھارتی ریاستوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے تو سکالر شپ کے تحت روانہ کر دیا گیا لیکن اب ان کی فیس ادا نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ان کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑتاہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ کشمیری طلباء کے مستقبل کے ساتھ جان بوجھ کر کھلواڑ کیا جارہا ہے۔