قندیل بلوچ کیس: مفتی عبدالقوی کے وارنٹ ملزم نے پہلے ہی ضمانت کرا لی: ایس پی

ملتان (آئی این پی+ نیٹ نیوز) جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی کے ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے جبکہ ملزم نے گرفتاری سے پہلے ہی ضمانت کروا لی۔ ملتان کی مقامی عدالت نے قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر نور اکبر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کیس میں مفتی عبدالقوی شامل تفتیش نہیں ہو رہے اور کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہے جبکہ وہ تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر جوڈیشل مجسٹریٹ پرویز خان نے ان کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر گرفتار کرنے کا حکم دےدیا۔ دریں اثناءاسی عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کرنے سے قبل ہی مفتی عبدالقوی کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی منظور کر لی تھی۔ ایس پی ملتان عمارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم نے عدالت کی طرف سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے سے پہلے ہی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دی تھی جو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے پر منظور کر لی گئی۔ قبل ازیں مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ ضمانت پر ہوں تو وارنٹ کیسے جاری ہو گئے؟ میں ہر وقت پولیس سے تعاون کے لئے تیار ہوں اور اپنے مدرسہ میں موجود، پولیس جب چاہے مجھ سے مل سکتی ہے۔ قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی نے گذشتہ روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں وکیل محبوب عالم خان کے ذریعے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری دائر کی تھی جس میں م¶قف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں قندیل بلوچ قتل کیس میں بے گناہ قرار دینے کے بعد اب دوبارہ بیان کے ذریعے ملوث کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل قندیل بلوچ قتل کیس میں 3 ملزمان پر فرد جرم عائد بھی کی گئی تھی جس میں ملزم کا بھائی وسیم، کزن حق نواز اور ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط شامل ہیں جب کہ عدالت نے کیس کے ایک اور ملزم ظفر کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ واضح رہے کہ 16 جولائی کو ماڈل قندیل بلوچ کواس کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر گلا دبا کر قتل کردیا تھا جب کہ ملزم نے پولیس اور میڈیا کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔

قندیل بلوچ قتل