سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں 7.5 فیصد اضافہ مسترد، احتجاج کا اعلان کر دیا

لاہور (سپیشل رپورٹر) سرکاری ملازمین کی تنظیموں نے پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ مسترد کرتے ہوئے احتجاج کے لئے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر دیا۔ ایپکا کے مرکزی چیئرمین محمد افضل ، مرکزی صدر منیر احمد بلوچ، صوبائی صدر پنجاب محمد سلطان مجددی نے کہا ہے کہ حکمران اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے ہلاکو خان اور چنگیز خان کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ ’’خادم اعلی‘‘ نے سرکاری ملازمین کے ساتھ ظلم کیا ہے۔ حکومت کے پاس کمشن کے لئے میگا پراجیکٹ کے لئے بجٹ ہے لیکن سرکاری ملازمین کے لئے پیسے نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 15 سے 17 جون تک ملک بھر کے تمام دفاتر میں مکمل قلم چھوڑ ہڑتال کریں گے۔ ایپکا پنجاب کے صدر حاجی ارشاد نے بجٹ کو ملازمین دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایپکا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے ایک ہفتہ کا وقت دیتے ہیں اگر پنجاب حکومت وفاقی حکومت کی طرز پر تنخواہوں کا اعلان کرتی ہے تو اس کو چاہئے کہ باقی وفاقی ملازمین کو ملنے والی مراعات بھی پنجاب میں دے۔ انہوں نے وزیراعلی ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل غلام غوث نے کہا ہے کہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ ڈرائیور ایسوسی ایشن کے صدر غلام مصطفے بٹ اور سیکرٹری پرویز اختر اعوان نے کہا ہے کہ پچھلے ایک ماہ میں دالوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے وہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ سے ڈبل ہے ملازمین خود کشیوں پر مجبور ہیں حکمران عیاشیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ پنجاب سول سیکرٹریٹ شاہین گروپ کے چیئرمین ملک اعجاز، عظیم باری، سلیم خان، ڈاکٹر نسیم غنی نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے ملازمین کے ساتھ وہی مذاق کیا ہے جو وفاقی حکومت نے کیا تھا۔ کیا ملازمین کو جینے کا حق نہیں؟ پچھلے ایک سال میں پنجاب میں تین سو سے زیادہ ملازمین خود کشیاں کر چکے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں میں پچاس فیصد اضافہ کیا جائے۔