تعلیم 310 ارب 20 کروڑ‘ صحت 166 ارب‘ امن و امان کیلئے 109 ارب 25 کروڑ

لاہور(خصوصی رپورٹر+ کامرس رپور ٹر+ سٹاف رپورٹر) حکومت پنجاب نے تعلیم کے شعبے کے لئے 310 ارب 20 کروڑ روپے مختص کئے ہیں جو کل بجٹ کا 27 فیصد ہے۔ ترقیاتی بجٹ سے 9 سو 90 ہائی سکولوں میں کمپیوٹر لیب کی تنصیب، سات ہزار پانچ سو سکولوں میںمیں عدم دستیاب سہولیات ، چار ہزار سات سوسکولوں کی بلڈنگز کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ وہاڑی میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا سب کیمپس تعمیر کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال میں پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ کے لئے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے لئے دس ارب 50 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔نئے مالی سال میں امن و امان کی بحالی کے لئے ایک سو 9 ارب 25 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو کل بجٹ کا ساڑھے 9 فیصد ہے حکومت نے بڑے شہروں میں سیف سٹی پروگرام کے اجراء کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے اگلے مالی سال کے دوران چار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ عوام کو روایتی تھانہ کلچر سے نجات دلانے کے لئے صوبہ بھر میں مختلف مقامات پر80 پولیس سروس سنٹرز قائم کئے جا رہے ہیں۔ 2015-16 ء کے لئے محکمہ پولیس کے بجٹ میں مجموعی طور پر 94 ارب 67 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی ہے ۔صحت عامہ کے فروغ اور عوام کو علاج معالجہ کی جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے بجٹ 2015-16ء میں صوبائی اور ضلعی سطح پر مجموعی طور پر 166 ارب 13 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیاہے جو بجٹ کا 14 فیصد ہے ڈی ایچ کیو ، ٹی ایچ کیو ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے لئے ایک ارب 41کروڑ روپے کا پُرکشش اور خصوصی پیکج منظور کیا گیاہے۔صوبائی ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لئے اگلے مالی سال میں 10 ارب 82 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈریسرچ سنٹرکے لئے نئے مالی سال میں 3 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔غریب بچوں کی تعلیم کیلئے 10 ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ غریب عوام کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔