بجٹ میں آمدن بڑھانے کا کوئی موثر اقدام نہیں، ترقیاتی فنڈز پر نظرثانی کا امکان

اہور (تجزیہ: احسن صدیق) پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2015-16ء کے بجٹ کو پورا کرنے کیلئے آمدنی کا زیادہ انحصار این ایف سی کے تحت ملنے والے فنڈز پر کیا ہے اور صوبائی آمدن بڑھانے کیلئے کوئی موثر اقدام نہیں کیا، آئندہ مالی سال کے لئے صوبائی آمدن کا ہدف 160 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جسے حاصل کرنا بھی ایک سوالیہ نشان رہیگا کیونکہ رواں مالی سال کے بجٹ میں صوبائی آمدن کا ہدف 164.7 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جسے پنجاب حکومت کے ٹیکس اکٹھا کرنیوالے محکمے حاصل نہ کر سکے اور پھر اسے نظرثانی کرکے 101.5 ارب روپے کردیا گیا۔ آئندہ مالی سال پنجاب حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل کی مد میں ملنے والے فنڈز کا تخمینہ 888.5 ارب روپے ہے ان فنڈز کا ملنا بھی ایک سوالیہ نشان رہے گا کیونکہ ایف بی آر کیلئے آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس وصولی کا ہدف 3100 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایف بی آر رواں مالی سال کیلئے ٹیکس وصولی کا 2810 ارب روپے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ جس کے باعث رواں مالی سال پنجاب کو 804.2 ارب ملنے کی بجائے صرف 746.03 ارب روپے مل سکے۔ جس کا براہ راست اثر پنجاب کے ترقیاتی بجٹ پر پڑا اور پنجاب حکومت کو 345 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو نظرثانی کرکے 268 ارب روپے کرنا پڑا جس میں 235 ارب روپے ہی استعمال کئے جا سکے۔ اگر ایف بی آر نے آئندہ مالی سال بھی 3100 ارب روپے کا ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل نہ کیا تو پنجاب کو قابل تقسیم محاصل کی مد میں ملنے والے فنڈز مکمل طور پر نہیں ملیں گے جس کے بعد پنجاب کو دیگر اخراجات کے ساتھ ساتھ آئندہ مالی سال کے 400 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کو نظرثانی کرکے کم کرنا پڑیگا۔