وزیر داخلہ کے بیان میں سفارتی مہارت کا فقدان، دفتر خارجہ بہتر ردعمل دے سکتا تھا

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی طرف سے بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں سخت بیان سے دفتر خارجہ تلملا اٹھا ہے۔ دفتر خارجہ کی بیوروکریسی نے نئے سرے سے یہ شکوہ ہے کیا ہے کہ انہیں مناسب سیاسی رہنمائی میسر نہیں جس کے باعث دفتر خارجہ حساس معاملات پر بروقت ردعمل دینے سے قاصر ہوتا ہے۔ یہ ردعمل حکومت کے کسی اور محکمہ کی طرف سے آنے کی صورت میں نہ صرف دفتر خارجہ کو وضاحتیں کرنا پڑتی ہیں بلکہ حتمی صورتحال بھی سفارتکاروں کو ہی سنبھالنی پڑتی ہے۔ دفتر خارجہ کے ایک ذریعہ کے مطابق محکمہ کو ایک طاقتور وزیر کی ضرورت ہے جو وفاقی کابینہ میں بھی تگڑی حثییت رکھتا ہو۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور اور خارجہ امور کیلئے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی موجودگی اور وزیر اعظم ہائوس میں دفتر خارجہ کے سینئر نمائندے کے باوجود اہم امور پر پالیسی اور فیصلوں کے بارے میں حکومتی رائے جاننے میں وقت صرف ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے راہنمائوں کو پھانسیوں اور یمن کی صورتحال پر امارات کے وزیر کی طرف سے بیان پر ردعمل کا بھی یہی معاملہ تھا۔ اس ذریعہ کے مطابق چونکہ امارات کے وزیر نے ٹویٹر پر پاکستان کے خلاف بیان دیا تھا اس لئے دفتر خارجہ میں رائے یہ تھی متحدہ عرب امارات سے جواب دہی بھی غیررسمی انداز میں کی جائے ان سے استفسار کیا جائے کہ جب پاکستان کے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ دفاع اور سلامتی کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں تو پھر امارات کے وزیر خارجہ کو پاکستان کے خلاف بیان بازی کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر کیوں اچھالا گیا۔ ابھی غور و فکر جاری تھا کہ وزیر داخلہ نے اماراتی وزیر کے بیان پر ردعمل ظہار کر دیا جو اصولاً تو درست ہے مگر اس میں سفارتی مہارت کا فقدان ہے۔ اگر دفتر خارجہ کو ہدایت کی جاتی تو وہ یہی کام مزید بہتر انداز میں کر سکتا تھا۔ اس ذریعہ کے مطابق بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کی پھانسیوں کے معاملہ میں بہرحال دفتر خارجہ کی رائے یہ تھی کہ یہ پھانسیاں اگرچہ عدل کے منافی ہیں لیکن یہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ ہے جس پر پاکستان ایک حد اعتدال سے زیادہ ردعمل کا اظہار نہیں کر سکتا ورنہ بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں پہلے سے پائی جانے والی سردمہری خرابی میں بدل سکتی ہے۔