مہمند ایجنسی میں جھڑپ، پاک فوج نے افغانستان سے آنے والے10 دہشت گرد مار دئیے

مہمند ایجنسی/ وانا/ کابل (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) پاک فوج نے مہمند ایجنسی شونکڑئی میں افغانستان سے داخل ہونے والے 10 دہشت گردوں کو ایک گھنٹے طویل جھڑپ کے بعد ہلاک کر دیا جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے شوال اور افغان صوبے کنڑ میں امریکی ڈرون حملوں میں طالبان کے ایک سینئر کمانڈر سمیت 8 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ ادھر ٹانک میں قبائلیوں کے ساتھ جھڑپ میں 2 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے گروپ نے پاک افغان سرحدی علاقے شونکڑئی سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، فائرنگ کے تبادلے میں دس دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ دہشت گرد ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ دہشت گردوں کی لاشیں سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔ آئی این پی کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق تاحال ملنے والی لاشوں کی کوئی شناخت نہیں ہو سکی تاہم انہیں شناخت کیلئے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مارے جانے والوں کی عمریں 25 سے 30سال کے درمیان ہیں۔ آن لائن کے مطابق شوال میں امریکی جاسوسی طیارے سے 2 میزائل داغے گئے، جس سے 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان کے سجنا گروپ سے تھا۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ سکیورٹی حکام نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مارے گئے چاروں دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان کے سجنا گروپ سے تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز افغانستان کے صوبے کنڑ میں طالبان کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ کیا گیا۔ افغان حکام نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں طالبان کے سینئر کمانڈر کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں تاہم فوری طور پر کمانڈر کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔