سانحہ تربت: مقتول مزدور آبائی علاقوں میں سپرد خاک، رقت آمیز مناظر: گرینڈ آپریشن کا فیصلہ

رحیم یار خان+ تربت (آئی این پی) سانحہ تربت میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے 20 مزدوروں کی نماز جنازہ آبائی علاقوں رحیم یار خان، تھر پارکر اور بدین میں ادا کردی گئی، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے، فضا سوگوار رہی۔ تمام افراد کو سپرد خاک کردیاگیا۔ 13 میتیں رحیم یار خان کے علاقوں چک 212 اور موضع شاہ پور سی ون تھرٹی کے ذریعے پہنچائی گئیں۔ 6 مزدوروں کی نماز جنازہ چک 212 میں ادا کرنے کے بعد سپردخاک کر دیا گیا جبکہ 7مزدوروں کی تدفین موضع شاہ پور میں کی گئی۔ ڈی سی او سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ میتیں آبائی علاقوں میں پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ 7 مزدوروں کی میتیں آبائی علاقوں تھرپارکر اور بدین میں رات گئے پہنچا دی گئیں تھیں، لواحقین دھاڑیں مار کر روتے رہے جس کے بعد 5 مزدوروں کی نماز جنازہ تھرپارکر کے گاؤں چونہار میں ادا کی گئی جن میں ارشاد، فاروق، ممتاز، ساجد اور افضل شامل ہیں اور دو مزدوروں کی نماز جنازہ بدین کے گائوں سلیمان منگوانہ میں ادا کی گئی۔ تمام افراد کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ بدین سے تعلق رکھنے والے دونوں مزدور سگے بھائی تھے۔ گزشتہ روز تربت میں سوراب ڈیم پر کام کرنے والے مزدوروں کے کیمپ پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں 20 محنت کش جاں بحق ہو گئے تھے۔ جاں بحق ہونے والے 20 مزدوروں کا مقدمہ کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ اللہ نذر کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے ساتھ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ میں 302 اور 324 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دریں اثناء سکیورٹی فورسز نے مکران ڈویژن بلوچستان میں گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کر لیا۔ 1200 ایف سی کمانڈوز کو تربت طلب کر لیا گیا۔ آپریشن میں 3 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار حصہ لیں گے۔ ڈی جی ایف سی آپریشن کی نگرانی کریں گے۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹرز کی مدد بھی لی جائے گی ۔ آپریشن میں رینجرز، ایف سی اور لوکل لا انفورسمنٹ ادارے بھی حصہ لیں گے۔ آپریشن مکران ڈویژن کے پانچوں اضلاع میں کیا جائے گا۔ سکیورٹی ادارے خفیہ اطلاعات پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کریں گے۔ دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اتوار کو سکیورٹی فورسز نے تربت کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم کو ارسال کر دی گئی جس کے مطابق حملہ آوروں نے مزدوروں کو شناخت کے بعد قتل کیا‘ حملہ آوروں کی تعداد پندرہ سے بیس تھی‘ لیویز اہلکاروں نے حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی نہیں کی۔ پولیس کی نفری کم ہونے کے باعث لیویز اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ زیرحراست آٹھ لیویز اہلکاروں سے تفتیش جاری ہے۔ سانحہ کی تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ایک ہفتے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔