افتخار چودھری 8 ماہ کہاں رہے، پی ٹی آئی کے استعفے قبول نہ کرنا درست فیصلہ ہے: خورشید شاہ

لاہور (ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تحر یک انصاف اپنی شرائط منوا کر ہی پارلیمنٹ میں واپس آئی ہے‘ خواجہ آصف کی وجہ سے حکومت کو ’’سبکی‘‘ ہوئی‘ یمن کے معاملے پرپارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پاکستانی قوم کی ترجمانی ہے‘ سپیکر قومی اسمبلی کا تحریک انصاف کے استعفوں کو قبول نہ کر نے کا فیصلہ درست ہے ‘ تحر یک انصاف کے استعفوں پر سپیکر کو خط لکھنے والے جسٹس(ر) افتخار چودھری 8 ماہ کہاں رہے؟ اگر کوئی جماعت تحریک انصاف کے استعفوں کو منظور کرانا چاہتی تھی تو پارلیمنٹ میں قرار داد لے آتی اب باتیں کر نے کا کوئی فائدہ نہیں، نبیل گبول کے پیپلزپارٹی کے لوگوں سے رابطے ہیں یا نہیں مجھے معلوم نہیں ان سے پوچھا جائے‘ کراچی کے ضمنی انتخابات میں این اے 246 میں ہمارا کوئی امیدوار نہیں۔ لاہور میں پیپلزپارٹی کے رہنما نوید چودھری اور دیگر کے ساتھ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا پہلے دن سے یہی موقف رہا ہے کہ تحریک انصاف کے استعفوں کو منظور نہیں کیا جانا چاہئے جب تحریک انصاف نے استعفے دیئے تو سب انہیں واپس پارلیمنٹ میں آنے کا مشورہ دیتے رہے مگر آج ہر کوئی تحریک انصاف کے استعفوں پر بات کر رہا ہے۔ قومی اسمبلی حکومت نے تحریک انصاف کی مرضی کے مطابق عام انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا اور اب دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن ہی کوئی فیصلہ کر یگا۔ جو لوگ تحریک انصاف کے استعفوں کی منظوری کی بات کررہے ہیں یا توہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ یا پھر انہیں آئین کا کچھ پتہ نہیں کیونکہ آئین میں اس حوالے سے سب کچھ واضح لکھا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے بھی آئین و قانون کے مطابق فیصلہ دیا جہاں تک سید ظفر علی شاہ کا تحریک انصاف کے استعفوں کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جانے کا تعلق ہے تو اسکی اصل وجہ مسلم لیگ ن کا ان کو سینٹ کی ٹکٹ نہ دینا ہے یہ وہی ظفر علی شاہ ہیں جو 1999میں نوازشر یف کی حکومت کے خاتمے کے بعد سپریم کورٹ گئے اور فیصلہ پرویز مشرف کے حق میں کرا کر آگئے۔ عدالت نے مشرف کو آئین میں ترامیم اور وردی میں رہنے کا حق دیا۔ اپوزیشن میں کسی سے محبت اور قر بت کی کوئی بات نہیں اپوزیشن میں محبتیں اور قربتیں نہیں اصولوں کی بات ہوتی ہے پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اصولوں کی بات کی ہے۔ پارلیمنٹ میں یمن اور سعودی عرب کے حوالے سے قرارداد پر خلیجی ممالک کی طرف سے سخت ردعمل پر وزارت خارجہ کا مؤقف سامنے آنا چاہیئے۔ پارلیمنٹ میں پاس کی گئی متفقہ قرارداد پاکستان کے 20کروڑ عوام کی ترجمانی ہے۔ تحریک انصاف نے اپنا مؤقف تسلیم کروایا انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنوانے کے بعد اس کے ارکان پارلیمنٹ ایوان میں آئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے غلط طرز عمل کا مظاہرہ کیا۔ اس سے حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی سبکی ہوئی۔ پی ٹی آئی کے استعفوں کے حوالے سے اب ہر پارٹی نمبر بنانے میں مصوف ہے۔ شائد لوگوں کو رولز آف بزنس کا علم نہیں۔