خیبر پی کے ‘ فاٹا میں پولیو مہم شروع ‘ حساس علاقوں میں کرفیو نافذ

پشاور، خیبر ایجنسی (احمد  نبی/ نیشن رپورٹ+ آئی این پی) پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پی کے کے کئی حساس علاقوں میں پولیو ورکرز پر حملوں کے بعد پولیو کیخلاف کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ گزشتہ برس 77 پولیو کیسز سامنے آنے پر پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن کر سامنے آیا۔ گزشتہ روز خیبر پی کے اور فاٹا میں 3 روزہ پولیو مہم شروع کر دی گئی جس کیلئے سختی حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے جبکہ بعض علاقوں میں سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد مہم کو مکمل کیا جائے گا۔ اس مہم میں 400 تربیت یافتہ خاصہ دار اور لیویز اہلکار حساس علاقوں کے گھروں میں جا کر بچوں کو قطرے پلا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ان علاقوں میں ہیلتھ ورکرز نے مہم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں صدر ممنون حسین نے گزشتہ روز ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور پولیو مہم کیلئے ٹیموں کی سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے پولیو مہم کی کامیابی اور لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے مذہبی رہنمائوں اور علماء کی مدد حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس موقع پر بنگلہ دیش کی مثال دی جہاں انہوں نے آبادی کے مسئلے پر علماء کی مدد سے قابو پایا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری فاٹا ارباب عارف نے انہیں بریفنگ دی۔ جمرود میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ جہانگیر اعظم وزیر خود گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلا رہے ہیں۔ پولیو رضاکاروں پر حملوں کے بعد پولیو مہم روک دی گئی تھی۔ سکیورٹی خدشات کے باعث پولیو رضاکار تاحال مہم کے بائیکاٹ پر ہیں جس کے باعث لیویز اور خاصہ دار فورس کے اہلکار بچوں کو پولیو کے قطرے پلارہے ہیں۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل اور جمرود کو پولیو مہم کے حوالے سے حساس ترین علاقہ قرار دیا گیا ہے اور ایجنسی بھر میں جہاں سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں وہیں موٹرسائیکل کے چلائے جانے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق  خیبر ایجنسی میں پولیو مہم کے لئے تین دن  کے لئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں خیبر پی کے میں ذرائع محکمہ صحت کے مطابق 5 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کی ہے۔ بچوں کا تعلق شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی سے ہے۔