ہماری کمپنیوں کو پاکستان میں سکیورٹی ، ٹیکسوں کے غیر منصفانہ نظام کے باعث مسائل کا سامنا ہے: امریکہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) امریکی وزیر تجارت پینی پرٹز نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری کیلئے آنیوالی امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سکیورٹی، افسر شاہی، ٹیکسوں اور تیزی سے بدلتی پالیسیوں کے باعث مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستان اپنی پالیسیوں میں بہتری لائے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امریکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان کاروباری مواقع سے متعلق دو روزہ کانفرنس شروع ہوگئی۔ امریکی وزیرتجارت نے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم، آرمی اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ پاکستان کو امداد دینے کی بجائے سرمایہ کاری کو فروغ دے رہے ہیں۔ بہت سی امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں مسائل کی شکایات کی ہیں ۔ امریکی کاروبار کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا تشویش ہوگی کہ پاکستان میں ٹیکس اور اسکے حصول کا نظام غیر منصفانہ اور غیر مستحکم ہے جو پاکستان کیلئے بھی سنجیدہ مالی مسائل کھڑے کرسکتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہر تعاون کو تیار ہیں وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر نے کہا کہ پاکستان امریکہ جوائنٹ ایکشن پلان پر عملدرآمد جلد شروع ہوجائیگا، امداد سے بڑھ کر سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ امریکی وزیر تجارت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی طور پر مستحکم پاکستان دنیا اور خطے میں امن لا سکتا ہے۔ پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے کیلئے پاکستانی اداروں کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ مقامی اور غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کاروبار دوست اور شفاف پالیسیوں کے ذریعے بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ خاص طور پر توانائی‘ انفراسٹرکچر اور زرعی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔ کانفرنس میں 400 سے زائد ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار‘ تاجر اور ملکی و غیرملکی کمپنیوں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔