گونگی بہری خاتون سے اجتماعی زیادتی، ایسے دردناک واقعات پر حکومت مستعفی کیوں نہیں ہو جاتی: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں پولیس کی جانب سے شہریوں پر جعلی مقدمات بنانے، پولیس کلچر کے خاتمے، عوام پر مظالم سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی گئی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی پولیس کی زیادتیوں کے ازالے کیلئے کوئی میکنزم موجود نہیں ہے، اگر حکومت نے اس حوالہ سے کوئی میکنزم قائم نہ کیا تو عدالت اس حوالے سے نظام قائم کریگی، عدالت آنکھیں بند نہیں کر سکتی، عدالت جس کیس میں بھی ہاتھ ڈالتی ہے پولیس کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال، ناقص تفتیش اور شہریوں پر مظالم نظر آتے ہیں، پولیس عوام کی محافظ کے بجائے انکی حاکم بن گئی ہے، پولیس کی جانب سے عوامی زیادتیوں کا کوئی علاج نظر نہیں آتا، عدالت انفرادی طور پر سب ٹھیک نہیں کر سکتی، اگر کوئی معاملہ اٹھ کھڑا ہو تو کانسٹیبل سے لیکر سب انسپکٹر تک کو تو پھنسا دیا جاتا ہے لیکن انسپکٹر اوردیگر اعلیٰ سطح کے کسی اہلکار کیخلاف کوئی کارروائی کی مثال نہیں ملتی، پولیس کا جو آفسر جتنا کرپٹ ہوگا اتنی تیزی سے ترقی دیکر اسے نوازا جاتا ہے، 70 سال میں کسی پولیس کے اعلیٰ افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی، عدالت نوٹس لیتی ہے تو سرکار بھی اپنے اہلکاروں سے واجبی پوچھ گچھ کر لیتی ہے، ایک طرف اسے ہٹاکر عوام کو خوش کرتی جبکہ دوسری طرف اسے پرموشن دے دی جاتی ہے۔ ننکانہ صاحب میں ایک گونگی بہری خاتون کا گینگ ریپ کیا گیا، سرکار بتائے کہ اس میں غفلت کے مرتکب سابق ڈی پی او منتظر مہدی کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ منڈی بہاؤ الدین میں پولیس کا ایک اے ایس آئی اعجاز ایک لڑکی کو گرفتار کرکے دو دن تک تھانے میں ہی اس کی آبرو ریزی کرتا رہا اور اسکے بعد اسے ایک دوست کے گھر لے گیا اور دونوں نے اسے مزید بے آبرو کیا اور اب مدعی پارٹی کے ساتھ صلح کی بنا پر نہ صرف کیس ختم ہوگیا ہے بلکہ اسے محکمہ نے اسی عہدہ پربحال بھی کر دیا ہے جس پر جسٹس اعجاز احمد چودھری نے کہا کہ اسے ترقی دیتے ہوئے ڈی ایس پی نہیں بنا دیا جانا چاہئے تھا جبکہ جسٹس جواد نے کہا کہ اسے ایک ہفتے میں سب انسپکٹر، ایک ماہ میں انسپکٹر اور دو ماہ میں ڈی ایس پی بنا دیں گے۔ غریب آدمی کا اس ملک میں جینا حرام ہوچکا ہے، انہیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو ان کیلئے بہتر رہے گا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے مظالم پر عدالتیں اپنی آ نکھیں بند نہیں کر سکتیں، ہم سب نے ملکر اس نظام کو ٹھیک کرنا ہے، جس دن مایوس ہوگیا اسی دن یہ عہدہ چھوڑ دونگا، اس معاملہ پر ادارہ جاتی نظام بنانے کی ضرورت ہے، پولیس عوام کو تحفظ تو نہیں دے سکتی البتہ اسے بازو مروڑنا ضرور آتا ہے، اتنے دردناک واقعات پر حکومت مستعفی کیوں نہیں ہوجاتی ہے؟ شاید ہم بہت بے درد اور بے حس ہوگئے ہیں؟ اگر انگریز کے دورمیں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوا ہوتا تو اب تک بہت کچھ ہو چکا ہوتا۔