پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کیا جائے: وفاقی وزارت داخلہ کا صوبوں کو مراسلہ

اسلام آباد + لاہور + فیصل آباد + جھنگ (بی بی سی اردو + ایجنسیاں+ اپنے نامہ نگار سے + نمائندہ خصوصی) پاکستان کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں سزائے موت پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ اس سزا پر عمل کیا جائے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام مقدمات جن میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں ان کی سزاؤں پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔ اس سے پہلے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے فوراً بعد حکومت نے صرف دہشت گردی میں ملوث مجرموں کی سزائے موت پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ پاکستان میں سزائے موت پر یہ پابندی سابق صدر آصف علی زرداری نے 2008 میں عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد عائد کی تھی۔ انسانی حقوق کمشن کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر کی جیلوں میں آٹھ ہزار سے زائد ایسے قیدی موجود ہیں جن کی اپیلیں مسترد کی جا چکی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے ایک رکن کے مطابق دہشت گردی کے علاوہ ہر طرح کے مجرموں کی سزائے موت پر سے پابندی اٹھانے کا مقصد قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں آنے والی پیچیدگیوں سے نمٹنا بھی ہے۔ اس رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی کابینہ میں یہ معاملہ زیر بحث آیا تھا کہ دہشت گردی کے بعض مجرم صرف اس لیے سزائے موت سے بچے ہوئے ہیں کیونکہ ان پر مقدمات عام عدالتوں میں چلے تھے۔ یاد رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کی ہائیکورٹ نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری پر لگنے والی دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے انہیں تعذیرات پاکستان کے تحت سزائے موت دینے کا حکم جاری کیا تھا۔ وزارت داخلہ کا یہ مراسلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے سے پہلے، تین مارچ کو جاری کیا گیا تھا لہٰذا یہ قیاس بھی درست نہیں ہے کہ اس حکم کا تعلق ممتاز قادری کے مقدمے کے فیصلے سے بنتا ہے۔ رائٹر کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جن سزائے موت کے قیدیوں کی اپیلیں خارج ہوچکی ہیں ان کی پھانسیوں پر عمل درآمد شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں سکول پر حملے کے بعد اب تک تقریباً 24 مجرموں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق پشاور میں سکول پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد اس پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں جھنگ میں 4، فیصل آباد میں 2 اور لاہور میں 2 مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں۔ فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مزید 2 مجرموں جبکہ لاہور میں بھی 2 مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں۔ فیصل آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مزید دو ملزمان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیئے۔ دونوں کو 13مارچ کو پھانسی دی جائیگی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج راجہ پرویز اختر نے تھانہ ڈجکوٹ کے مقدمہ کے مجرم محمد اختر حسین اور تھانہ ترکھانی کے مقدمہ کے مجرم ساجد کے ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے ہوئے 13مارچ کو پھانسی دینے کا حکم دیا ہے۔ دونوں ملزمان کو 13مارچ بروز جمعتہ المبارک ڈسٹرکٹ جیل میں پھانسی دی جائے گی۔ علاوہ ازیں دوران ڈکیتی، مزاحمت پر شہری کو موت کے گھاٹ اتارنے والے ملزم کی پھانسی عدالت عالیہ نے 16مارچ تک موخر کر دی۔ ملزم کو آج پھانسی دی جانی تھی۔ قیصر عرف بلا نے 2004ء میں شفیق نامی شہری کو غلام محمد آباد میںقتل کیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فاضل جج راجہ پرویز اختر نے تھانہ غلام محمد آباد کے علاقے میں دوران ڈکیتی شفیق نامی شہری کو قتل کرنے والے ملزم قیصر الیاس عرف بلا کو 11مارچ 2015ء کو پھانسی دینے کے ڈیتھ وارنٹ جاری کئے تھے۔ ملزم کے لواحقین نے لاہور ہائیکورٹ رٹ دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مقتول کے لواحقین سے صلح نامہ ہو رہا ہے جس پر عدالت عالیہ نے 16مارچ تک پھانسی موخر کرتے ہوئے مقتول کے لواحقین کو بیانات قلمبند کروانے کے لئے طلب کر لیا ہے۔د وسری جانب ڈسٹرکٹ جیل انتظامیہ نے قیصر عرف بلا کی لواحقین سے آخری ملاقات کروا دی ہے۔ علاوہ ازیں سیشن عدالت نے کوٹ لکھپت جیل میں بند دو قیدیوں کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سزائے موت کے قیدیوں کو بلاتفریق پھانسی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر عمل درآمد کے سلسلہ میں لاہور کی سیشن عدالت نے کوٹ لکھپت جیل میں قید سزائے موت کے مجرم ملک اشرف اور طاہر کی تمام اپیلیں مسترد ہونے پر ان کے ڈیتھ وارنٹ جاری کردیئے ہیں جس کے مطابق ملک اشرف کو 17 اور طاہر کو 18 مارچ کو پھانسی دی جائے گی۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق جھنگ جیل کے 4 سزائے موت کے قیدیوں کے بلیک وارنٹ جاری کردیئے گئے جن میں ریاض سکنہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، غلام محمد سکنہ گھکڑ لالیاں اور مبشر سکنہ چنیوٹ شامل ہیں۔ جیل حکام کے مطابق ان قیدیوں کو اسی ہفتے میں ہی پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا جائیگا۔