سینٹ: جسٹس (ر) افتخار کو مراعات کے حوالے سے فرحت اللہ بابر کی قرارداد معطل، علامتی واک آئوٹ

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں) منگل کو سینٹ نے فرحت اللہ بابر کی قرارداد کو وقتی طور پر معطل کر دیا جس میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی وہ مراعات واپس لینے کو کہا گیا تھا جو انہیں قانون کے مطابق نہیں دی گئیں تھیں۔ انہیں قانون جتنی اجازت دیتا ہے اس سے بہت زیادہ مراعات دی گئی تھیں۔ سینٹ میں قائد ایوان اور قائد اختلاف دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چونکہ یہ کیس عدالت میں ہے اس لئے اسے واپس لیا جاتا ہے اور قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ حکومت عدالت میں اس کیس کی پیروی کرے گی۔ یہ قرارداد پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پیش کی تھی جس پر اے این پی کے سینیٹر حاجی عدیل، جے یو آئی کے سینیٹر غلام علی، ایم کیو ایم کے سینیٹر سید طاہر مشہدی، فاٹا کے سینیٹر ہدایت اللہ اور پختونخواہ عوام ملی پارٹی کے سینیٹر عبدالرئوف نے دستخط کئے تھے۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ یہ ایوان اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ ایک سابق چیف جسٹس کو بہت زیادہ مراعات دی جا رہی ہیں جو ماورائے قانون ہیں اور یہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے جبکہ پہلے کبھی کسی اور سابق چیف جسٹس کو نہیں دیا گیا۔ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ اس متنازعہ امتیازی فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور ان سے یہ مراعات واپس لینے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں۔ یہ ایوان یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ سابق چیف جسٹس کو ایوان کی کسی مناسب کمیٹی کے سامنے پیش کرکے یہ وضاحت لی جائے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد قانون سے ماورا مراعات کیوں حاصل کر رہے ہیں۔ اس قرارداد پر بات کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ یا تو حکومت کو عدالت کے اس حکم کو چیلنج کرنا چاہئے یا ضابطوں میں ترامیم کرکے یہ اضافی مراعات فراہم کرنے کیلئے عدالت کے حکم پر عمل کے لئے ترامیم کی جائے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا لیکن امتیازی طور پر ایک سابق چیف جسٹس کو یہ مراعات فراہم کی ہیں جبکہ دیگر سابق چیف جسٹسز کو یہ مراعات نہیں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں یہ مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد سابق چیف جسٹس کو چاہئے تھا کہ وہ یہ اضافی مراعات بشمول بلٹ پروف کار اور اس پر آنے والے اخراجات وغیرہ جیسی مراعات رضاکارانہ طور پر خود واپس کر دیتے۔ انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ سابق چیف جسٹس ایک جانب ان مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں اور دوسری جانب حکومت متعلقہ قوانین میں تبدیلی نہیں کر سکی۔ اس کے بعد سینیٹر فرحت اللہ بابر نے علامتی طور پر ایوان سے واک آئوٹ کیا اور کہا کہ سابق چیف جسٹس ان مراعات سے مستقل چپٹے ہوئے ہیں اور دوسری جانب حکومت قوانین میں تبدیلی کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ مختلف پارٹیوں کے دیگر سینیٹرز نے بھی اس علامتی واک آئوٹ میں سینیٹر فرحت اللہ بابر کا ساتھ دیا۔ بعد میں ایوان میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے معیار مکمل ہونے پر سینٹ سے رخصت ہونے والے سینیٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ سینٹ کے چیئرمین نیئر بخاری کی جگہ دوسرا چیئرمین منتخب ہو جائے گا لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکے گا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میں اس قرارداد پر زور نہیں دیتا لیکن حکومت کی طرف سے مناسب قانونی کارروائی نہ کرنے اور سابق چیف جسٹس کی طرف سے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مراعات رضاکارانہ طور پر واپس نہ کرنے پر ایوان سے احتجاجاً واک آئوٹ کرتا ہوں۔ سینیٹر کاظم ملک اور بعض دیگر ارکان نے ان کاساتھ دیا تاہم قائد حزب اختلاف اعزاز احسن اور دیگر ایوان میں بیٹھے رہے۔ چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ سی ڈی اے کے ساتھ ہماری زمینوں کے معاملات چل رہے ہیں‘ سی ڈی اے کی زمین پر قبضہ نہیں کیا۔ چیئرمین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن کی جانب سے خیبر پی کے کا نام درست تحریر کیا جائے۔ اجلاس کے دوران اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر حاجی عدیل نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعدصوبے کا نام خیبر پی کے ہے‘ چیئرمین سینٹ کی رولنگ بھی ہے کہ صوبے کا پورا نام لکھا جائے لیکن الیکشن کمیشن نے ہر جگہ ہمارے صوبے کا نام اپنی دستاویز میں سرحد لکھا ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اس غلطی کو درست کیا جائے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر سعیدہ اقبال نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز اور ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کی طرف سے بھی ستمبر 2012ء تا فروری 2015ء تک کے عرصہ کے لئے کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کردی گئی۔ سینیٹر حاجی عدیل کی طرف سے کمیٹی کے برلن اور برسلز کے دوروں سے متعلق رپورٹیں بھی ایوان میں پیش کی گئیں۔ اجلاس میں سابق سینیٹر میر عبدالرحمن جمالی کے انتقال پر سینٹ میں تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔ قراداد راجہ ظفرالحق کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ سینٹ میں میر عبدالرحمن جمالی کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں اظہارخیال کرتے سنیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ الیکشن کمشن نے حال ہی میں 2 کتابیں شائع کی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کا تعلق خیبر پی کے سے ہے۔ ان کتابوں میں خیبر پی کے کا نام سرحد لکھا گیا جو آئین کے خلاف ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ حکومت معاملہ الیکشن کمشن کے نوٹس میں لائے۔ اس قسم کی کوتاہی ملک کے اہم ادارے سے کیسے ہو سکتی ہے۔ فاٹا میں سینٹ انتخابات میں طریق کار میں تبدیلی سے صدارتی حکم نامے سے متعلق پیپلزپارٹی کے سعید غنی نے توجہ دلائو نوٹس پیش کیا۔ نوٹس میںکہا گیا کہ رات کے اندھیرے میں فاٹا کے انتخابات کے طریق کار کو تبدیل کر دیا گیا۔ سعید غنی نے کہا کہ حکومت کی صدارتی حکم نامہ لانے میں بدنیتی نظر آتی ہے۔ حکومت اپنے مذموم مقاصد کیلئے حکم نامہ لائی۔ حکومت اپنے نمائندے لانے کیلئے فاٹا امیدواروں سے بات کر رہی ہے۔ اس معاملے پر الیکشن کمشن کے کردار پر سوالیہ نشان آگیا ہے۔ آرڈیننس فوری واپس لیا جائے۔