دوطرفہ سرمایہ کاری کے امریکی ماڈل سمجھوتہ کا مسودہ پاکستان کو دیدیا گیا: پینی

اسلام آباد (عترت جعفری) امریکہ کی وزیر تجارت نے کہا ہے کہ امریکی کمپنیوں سے کہا جائے گا کہ وہ پاکستان کے نجکاری پروگرام کا جائزہ لیں۔ پاکستانی حکام سے خطے میں تجارت میں اضافہ کے امور پر بات چیت کی، تجارت میں اضافہ سے تعلقات میں استحکام آتا ہے۔ دو طرفہ سرمایہ کاری کے امریکی ماڈل سمجھوتے کا مسودہ پاکستانی حکام کو دیا گیا ہے۔ امریکی کمپنیاں پاکستان میں ٹیکس رجیم میں بار بار تبدیلی لانے کی شکایت کرتی ہیں۔ سکیورٹی اور توانائی کے ایشوز بھی موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے کاروبار سے رابطہ سے تجارت میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی وزیر تجارت نے گزشتہ روز امریکی سفارت خانہ میں کوریج کرنے والے سینئر صحافیوں کے مختصر گروپ سے بات چیت کی اور ان کے سوالات کے جوابات دیئے۔ امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن بھی موجود تھے جنہوں نے مختصراً اظہار خیال کیا۔ امریکہ کی وزیر تجارت پرٹیزکر نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ پاک امریکہ ویک میں شرکت کے لئے پہلی بار پاکستان آئی ہیں۔ دورے میں ان کی توجہ کا مرکز دونوں ممالک کے درمیان قریبی معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا رہا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کمرشل تعلقات میں اضافہ کی بہت گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت ترقی کرے۔ تجارت تو ایک عالمی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان جتنا معاشی طور پر مضبوط ہو گا یہ سب کے لئے بہتر ہے۔ اس طرح محفوظ پاکستان بھی سب کے مفاد میں ہے۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے کہا کہ اکنامک ری کنسٹرکشن زونز بنانے کے معاملہ کو کانگریس میں لے جایا گیا تھا ‘ تاہم اس کے لئے حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان ’کاروبار‘ کی بنیاد پر تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔