فوجی عدالتوں سے دہشت گردی کم ہوئی: آرمی چیف

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت 198ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کافیصلہ کیاگیاہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ایچ کیومیں ہونے والی کورکمانڈرزکانفرنس میں ملک کی سکیورٹی صورتحال اورآپریشنل تیاریوں کاجائزہ لیاگیا۔کانفرنس میں آپریشن ضرب عضب کے نتائج اور اس کے داخلی سکیورٹی پر مثبت اثرات پر اظہار اطمینان کیا گیا،کانفرنس کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے ہدایت کی کہ انسداد دہشت گرد ی کیخلاف آپریشنز جاری رکھیں جائیں اور دہشت گردوں کے قبضے سے کلیئرکرائے گئے علاقوں کومستحکم کیا جائے۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے ٹی ڈی پیزکی واپسی کاعمل تیزکرنے کی بھی ہدایت کی،کانفرنس میں ہر طرح کے خطرات کا جواب دینے کیلئے تیاری سے متعلق پاک فوج کے عزم کا اعادہ کیا گیا ، آرمی چیف نے بابرتھری میزائل کے کامیاب تجربے پر سٹریٹجیک آرگنائزیشن کی کوششوں پر مبارکبادی دی، کانفرنس نے مقررہ مدت کے دورا ن فوجی عدالتوں کی کارکردگی کو بھی سراہا جس کے نتیجے میں دہشت گردی میں کمی آئی ۔ آخر پر آرمی چیف نے کہا کہ فوج قومی سلامتی کے حوالے سے تمام اداروں کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لئے آئینی ترمیم لانے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا جس کے بعد پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس 17جنوری تک ملتوی کر دیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ حکومت اپوزیشن جماعتوں کو فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال کی توسیع کے لئے آئینی ترمیم کی حمایت پر قائل نہیں کر سکی، اپوزیشن نے حکومت سے فوجی عدالتوں اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق کارکردگی پر بریفنگ مانگ لی، اپوزیشن نے کہا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر حکومت تنہا بھی ہے اور تقسیم بھی دونوں اتحادی جماعتیں اس معاملے میں حکومت کے ساتھ نہیں۔ ان خیالات کا اظہار اپوزیشن رہنمائوں نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں کیا۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں کو بتایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید دو سال توسیع کردی جائے اور اس حوالے سے متفقہ طور پر آئینی ترمیم کے بل کا مسودہ تیار کرلیا جائے۔ اجلاس میں سید خورشید شاہ، سید نوید قمر، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر شیریں مزاری، جمیعت علماء اسلام ف کے اکرم خان درانی، محمود خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنما صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی غلام احمد بلور، قبائلی رہنما شاہ جی گل آفریدی شریک ہوئے۔ اجلاس ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ اجلاس کے بعد سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا، سب نے ایک دوسرے کی بات کو سنا اس معاملے کے حوالے سے میں ادھر ہی ہوں کہیں نہیں جارہا۔ جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی فوجی عدالتوں کی آئینی ترمیم میں ساتھ نہیں دیا تھا اب بھی ہماری یہی پوزیشن ہے حکومت کو جب بھی اس قسم کے حالات پیش آتے ہیں تو اسے اپوزیشن یادآجاتی ہے، اپنی دوسالہ کارکردگی سے آگاہ کرے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہماری اس مخالفت سے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ خورشید شاہ نے کہاکہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ حکومت آل پارٹی کانفرنس میں کئے گئے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی قائم کرے، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومتی موقف سے تمام پارلیمانی جماعتیں اپنے قائدین کو بریفنگ دیں گی اور اپنے دوٹوک موقف سے آئندہ اجلاس میں آگاہ کردیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت خود واضح نہیں ہے، جمعیت علماء اسلام (ف)اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی بھی حکومتی موقف کے حوالے سے ابہام کا شکار ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن کو حکومت اپنی کارکردگی سے آگاہ کرے، ہم نے اہم پانچ سوالات حکومت کے سامنے رکھ دیئے ہیں، حکومت دو سالوں میں فوجی عدالتوں کی کارکردگی سے آگاہ کرے، نیشنل ایکشن پلان پرعملدرآمد کی نوعیت کیا ہے اس سے آگاہ کرے، انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے، ملکی سکیورٹی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی جائے اور حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے آگے سے بڑھنے کیلئے اپنے لائحہ عمل (بلیو پرنٹ) آئندہ اجلاس میں پیش کرے حکومت نے اے پی سی میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کی تشکیل نو کا وعدہ کیا تھا وعدے کی پاسداری کی جائے۔انہوں نے کہاکہ جب دہشتگردی کے خاتمے کے بارے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی سے آگاہ کیا جارہا تھا تو وفاقی وزیر قانون نے خود اعتراف کیا کہ دہشتگردوں کو اس عرصہ میں سب سے زیادہ سزائیں خیبر پی کے میں سنائی گئی ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ہماری اس مخالفت سے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ ٹی وی کے مطابق پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، جے یو آئی نے مدت بڑھانے کی مخالفت کر دی۔ تحریک انصاف نے حکومت پر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ 17 جنوری کو اجلاس دوبارہ بلانے پر اتفاق ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعید غنی نے بھی کہا ہے کہ پیپلزپارٹی فوجی عدالتوں کے حق میں نہیں ہے۔