صادق اور امین پر سختی سے عمل کیا جائے‘ اچھا ہے پارلیمنٹ نہ بچے‘ ملک تو بچ جائیگا: عمران

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹرسے) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ریمارکس آئے کہ صادق امین کی اہلیت پر عمل کیا تو کوئی نہیں بچے گا۔ صادق اور امین پر سختی سے عمل کیا جائے اچھا ہے پارلیمنٹ نہ بچے‘ پاکستان تو بچ جائے گا۔ جن کو ملک کی سربراہی کرنی ہے وہ سچے اور ایماندار نہیں تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ چلے جائیں ارکان اسمبلی‘ اگر میں فٹ نہیں تو میں بھی چلا جاؤں‘ ملک تو بچے گا۔ عمران خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مزید کہا ہے کہ پانامہ لیکس میں نواز شریف اور ان کے بچوں کا نام آیا تو ہم نے جواب طلب کیا۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں لکھی ہوئی تقریر کی۔ پارلیمنٹ کے اندر ایک بار اور قوم سے دو بار خطاب میں وزیراعظم نے پانامہ کے معاملے پر جواب دئیے۔ وزیراعظم نے بچوں کے نام پانامہ میں آنے کی صفائی پیش کی۔ مریم نواز نے 2012ء میں کہا کہ ان کی اور انکے خاندان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں۔ پانامہ کی وجہ سے انہیں ماننا پڑ گیا۔ نواز شریف نے پہلی مرتبہ تسلیم کیا کہ ان کے بچوں کی جائیداد بیرون ملک میں ہے۔ ہماری جدوجہد وزیراعظم بننے کیلئے نہیں۔ وزیراعظم بننے کے اور طریقے ہیں۔ وزیراعظم نے جھوٹ بولا۔ برطانیہ کے وزیراعظم اور برازیل کے صدر کی حکومت جھوٹ بولنے پر گئی۔ جھوٹ بولنا کوئی معمولی بات نہیں۔ دوسروں کی کرپشن ہر کیسے بات کریں گے جب وزیراعظم پر کرپشن نکے کیس ہوں گے۔ اگر ملک کے لوگ سچے ہی نہیں تو اس کا مستقبل ہی نہیں۔ اور عمران خان بھی پارلیمنٹ کیلئے فٹ نہیں ہوتا تو اس کو بھی جانا چاہئے۔ قرضے لے کر ملک نہیں چلایا جا سکتا۔ ملک تب چلے گئے جب آمدنی بڑھائیں گے۔ وزیراعظم یا صدر جھوٹ بولتا ہوا پکڑا جائے تو اسے استعفے دینا پڑتا ہے۔ التوفین کیس میں انہوں نے 4 فلیٹس گروی رکھے۔ اسحاق ڈار نے مجسٹریٹ کے سامنے جو اعتراف کیا ہم نے اس سے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے۔ رحمان ملک کی رپورٹ پر پیپلز پارٹی نے ن لیگ سے میثاق جمہوریت کے تحت مک مکا کیا۔