افغانستان کے 3 شہروں میں دھماکے‘ 46 افراد جاں بحق‘ 102 زخمی

کابل (اے ایف پی+ بی بی سی) افغانستان کے 3 شہروں میں دھماکوں سے سفیر امارات، گورنر اور میئر قندھار سمیت 102 افراد زخمی اور 46 افغان ہلاک ہو گئے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کے باہر 2 دھماکوں میں 30 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہو گئے۔ قندھار میں گورنر کے کمپاؤنڈ میں دھماکے سے امارات کے سفیر، گورنر اور میئر قندھار سمیت 16 زخمی ہو گئے۔ 9 افراد ہہلاک ہوئے۔ لشکر گاہ میں افغان خفیہ ایجنسی کی عمارت کے باہر دھماکے میں 7 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق کابل میں افغان پارلیمان کے قریب دہرے دھماکوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہو گئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب عملہ چھٹی کے وقت عمارت سے باہر نکل رہا تھا اور اس وقت وہاں خاصی بھیڑ تھی۔ اطلاعات کے مطابق کار بم اور خود کش حملہ آور کا ایک ساتھ دھماکہ ہوا۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو جاری کی گئی ایک ای میل میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ذبیح اللہ نے کہا حملے کا ٹارگٹ افغان خفیہ ایجنسی سے تعلق رکھنے والی ایک گاڑی تھی۔ زخمی ہونے والے ایک سکیورٹی گارڈ نے اے ایف پی کو بتایا 'پہلا دھماکہ پارلیمان کے باہر ہوا جس میں کئی معصوم لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ ایک پیدل خودکش حملہ آور نے کیا تھا۔' کار بم دھماکے کے بارے میں گارڈ نے بتایا کہ 'وہ سڑک کی دوسری طرف کھڑی تھی اور دھماکے سے ہوا میں اچھل گئی۔ کچھ گھنٹے قبل منگل کی صبح ایک خودکش بمبار نے ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں خود کو اڑا لیا۔ اس حملے میں 7 افراد ہلاک ہوئے، خیال رہے طالبان نے جون 2015ء میں بھی پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ نے گذشتہ ہفتے ہلمند میں 300 میرین تعینات کئے تھے۔ لشکر گاہ میں افغان خفیہ ایجنسی کی عمارت کے نزدیک خودکش دھماکہ ہوا جس میں 7 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے۔ افغان پولیس سربراہ کے مطابق دھماکہ اس وقت کیا گیا جب امن مذاکرات میں شامل ہونے کے خواہشمند شدت پسندوں سے میٹنگ جاری تھی۔ مرنیوالوں میں کچھ شدت پسند بھی شامل ہیں۔ افغان شہر قندھار میں بم دھماکہ میں 9 افراد جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہو گئے۔ بم دھماکہ کے زخمیوں میں متحدہ عرب امارات کے سفیر جمعہ محمد عبداللہ گورنر قندھار، میئر اور دیگر افراد شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں یو اے ای سفیر کے 4 گارڈز بھی شامل ہیں۔ دھماکہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہوا جس میں یو اے ای کے حکام بھی شریک تھے۔ امارات کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ سفیر جمعہ محمد عبداللہ دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔