مناظرہ کو تیار ہوں، آئین غیراسلامی ہے، کوئی معاہدہ ہوا تو یہ عارضی ہوگا: مولانا عبدالعزیز

اسلام آباد (اے این این) طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اورلال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز نے آئین کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر تمام علماءکو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے کہاکہ اگر کوئی کہتا ہے کہ پاکستان کا موجودہ آئین اسلامی ہے تو وہ اسے مناظرے کا چیلنج دیتے ہیں۔ آئین پاکستان کو اسلامی کہنا صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، موجودہ آئین انگریز کے دور کا بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں کہ موجودہ آئین ہرگز اسلامی نہیں ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ دستور کا ڈھانچہ انگریزی قوانین پر مبنی ہے اس لیے ملکی آئین غیر اسلامی ہے جس میں کہیں کہیں اسلامی شقوں کی پیوند کاری ہے، یہ کہنا سفید جھوٹ ہے کہ قرآن و سنت کو آئین میں سپریم لا کا درجہ حاصل ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ حکومت نفاذ شریعت کا بنیادی مطالبہ ماننے سے ہی انکار کر چکی ہے، ایسے میں حکومت اور طالبان کمیٹی کے مذاکرات سے وہ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ طالبان اور مولانا سمیع الحق سے دو روز کے دوران کوئی رابطہ نہیں ہوا، موجودہ صورتحال میں حکومت اور طالبان کمیٹی کے مذاکرات سے زیادہ پر امید نہیں، اگر حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ ہو بھی گیا توخدشہ ہے کہ عارضی ہو گا۔