مسلح تنازعات میں بچوں کے استعمال سے گریز‘ ڈرون حملے بند کئے جائیں: پاکستان

نیو یارک (اے این این+ این این آئی) پاکستان نے ایک بار پھر ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے مسلح تنازعات میں بچوں کو استعمال کرنے سے گریز کیا جائے، ڈرون حملے بچوں کو زندگی، تعلیم اور ترقی کے حق سے محروم کرتے ہیں، خانہ جنگی میں سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بچوں کو جنگی صورتحال میں دھکیلنے کی لعنت ختم ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں سے بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اوربالخصوص  بچوں کے تعلیم، صحت کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ خانہ جنگیوں میں بچوں کو استعمال کرنے کا سلسلہ روکنے کیلئے مربوط کوششیں کرنی چاہئے اور عالمی برادری کو تعاون کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو جنگی صورتحال اور مسلح تنازعات میں  دھکیلنا غیر انسانی، غیر اخلاقی فعل ہے اور یہ لعنت ختم ہونی چاہئے۔ ان خانہ جنگیوں اور تنازعات میں سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جن سے ہزاروں لاکھوں بچے  تعلیم ، صحت  کے بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔اب تک ایسی صورتحال میں ہزاروں بچے ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ مسعود خان نے کہا ہے کہ حق خودارادیت کے حصول تک پاکستان کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق دیرینہ تنازعہ حل کرنے میں ان کا ساتھ دیں۔ قونصل جنرل راجہ علی اعجاز، امریکہ میں کشمیر مشن کے سربراہ کیپٹن (ر) شاہین بٹ، سابق رکن کشمیر کونسل سردار سوار خان سمیت دیگر رہنمائوں نے تقریب سے خطاب کیا۔ مقررین نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور تنازع کے حل کیلئے بھرپور جدوجہد کرنے پر وزیراعظم نواز شریف کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔